تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ مريم (19) — آیت 56

وَ اذۡکُرۡ فِی الۡکِتٰبِ اِدۡرِیۡسَ ۫ اِنَّہٗ کَانَ صِدِّیۡقًا نَّبِیًّا ﴿٭ۙ۵۶﴾
اور کتاب میں ادریس کا ذکر کر، بے شک وہ ایسا نہایت سچا تھا، جو نبی تھا۔ En
اور کتاب میں ادریس کا بھی ذکر کرو۔ وہ بھی نہایت سچے نبی تھے
En
اور اس کتاب میں ادریس (علیہ السلام) کا بھی ذکر کر، وه بھی نیک کردار پیغمبر تھا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی اس کتاب کریم میں تعظیم و اجلال اور صفات کمال سے متصف ہونے کے اعتبار سے ادریس علیہ السلام کا ذکر کرو! ﴿اِنَّهٗ كَانَ صِدِّؔیْقًا نَّبِیًّا اللہ تعالیٰ نے ان کو بیک وقت صدیقیت… جو تصدیق تام، علم کامل، یقین ثابت اور عمل صالح کی جامع ہے… اور اپنی وحی اور رسالت کے لیے چن لیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: اذكُر في الكتاب على وجه التَّعظيم والإجلال والوصف بصفات الكمال إدريس. {إنَّه كان صدِّيقاً نبيًّا}: جَمَعَ الله له بين الصِّدِّيقيَّة الجامعة للتصديق التامِّ والعلم الكامل واليقين الثابت والعمل الصالح، وبين اصطفائِهِ لوحيه واختياره لرسالتِهِ.