تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ مريم (19) — آیت 50

وَ وَہَبۡنَا لَہُمۡ مِّنۡ رَّحۡمَتِنَا وَ جَعَلۡنَا لَہُمۡ لِسَانَ صِدۡقٍ عَلِیًّا ﴿٪۵۰﴾
اور ہم نے انھیں اپنی رحمت سے حصہ عطا کیا اور انھیں سچی ناموری عطا کی، بہت اونچی۔ En
اور ان کو اپنی رحمت سے (بہت سی چیزیں) عنایت کیں۔ اور ان کا ذکر جمیل بلند کیا
En
اور ان سب کو ہم نے اپنی بہت سی رحمتیں عطا فرمائیں اور ہم نے ان کے ذکر جمیل کو بلند درجے کا کر دیا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

فرمایا ﴿ وَوَهَبْنَا لَهُمْ یعنی ہم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے دونوں بیٹوں حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب علیہما السلام کو ﴿مِّنْ رَّحْمَتِنَا اپنی رحمت سے نوازا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے بہرہ ور کیا، علوم نافعہ اور اعمال صالحہ عطا کیے اور انھیں بے شمار ذریت عطا کی جو ساری دنیا میں پھیلی اور ان کے اندر بکثرت انبیاء اور صالحین ہوئے۔
﴿ وَجَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِیًّا اور ان کے ذکر جمیل کو بلند کیا۔ یہ بھی ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جس سے ان کو بہرہ ور کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نیک کام کرنے والے ہر شخص سے وعدہ کیا ہے کہ وہ اس کی نیکی کے مطابق اسے سچی شہرت عطا کرے گا۔ ان کا شمار تو ائمہ محسنین میں ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے انھیں سچی، جس میں جھوٹ کا شائبہ نہیں، ظاہر و باہر اور غیر مخفی ثنائے حسن عطا کی۔ ان کے ذکر خیر، ان کی ثنائے حسن اور ان کے ساتھ محبت نے مشرق و مغرب کو لبریز کر دیا ہے۔ خلائق کے دلوں میں ان کی محبت سما گئی، لوگوں کی زبان پر ان کا ذکر اور ان کی مدح و ثنا جاری ہو گئی۔ وہ پیروی کرنے والوں کے قائد اور راہنمائی حاصل کرنے والوں کے راہ نما بن گئے۔ ہر زمانے میں ان کا ذکر خیر نئے نئے اسالیب میں لوگوں کی زبانوں پر جای رہا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور وہ جسے چاہتا ہے اپنے فضل سے نوازتا ہے اور اللہ تعالیٰ فضل عظیم کا مالک ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ووهبنا لهم}؛ أي: لإبراهيم وابنيه إسحاق ويعقوب، {من رَحْمَتِنا}: وهذا يشمَلُ جميع ما وَهَبَ الله لهم من الرحمة من العلوم النافعة والأعمال الصالحة والذُّرِّيَّة الكثيرة المنتشرة، الذين قد كَثُر فيهم الأنبياء والصالحون، {وجَعَلْنا لهم لسانَ صدقٍ عليًّا}: وهذا أيضاً من الرحمة التي وَهَبَها لهم؛ لأنَّ الله وعد كلَّ محسن أن ينشُرَ له ثناءً صادقاً بحسب إحسانه، وهؤلاء من أئمة المحسنين، فنشر الله الثناء الحسن الصادق غير الكاذب العالي غير الخفيِّ، فِذكْرُهم ملأ الخافقين، والثناء عليهم ومحبَّتُهم امتلأت بها القلوب وفاضت بها الألسنةُ، فصار قدوةً للمقتدين وأئمة للمهتدينَ، ولا تزال أذكارُهم في سائر العصور متجدِّدة، وذلك فضلُ الله يؤتيه مَنْ يشاءُ، والله ذو الفضل العظيم.