اور میں تم سے اور ان چیزوں سے جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، کنارہ کرتا ہوں اور اپنے رب کو پکارتا ہوں، امید ہے کہ میں اپنے رب کو پکارنے میں بے نصیب نہیں ہوں گا۔
En
اور میں آپ لوگوں سے اور جن کو آپ خدا کے سوا پکارا کرتے ہیں ان سے کنارہ کرتا ہوں اور اپنے پروردگار ہی کو پکاروں گا۔ امید ہے کہ میں اپنے پروردگار کو پکار کر محروم نہیں رہوں گا
میں تو تمہیں بھی اور جن جن کو تم اللہ تعالیٰ کے سوا پکارتے ہو انہیں بھی سب کو چھوڑ رہا ہوں۔ صرف اپنے پروردگار کو پکارتا رہوں گا، مجھے یقین ہے کہ میں اپنے پروردگار سے دعا مانگ کر محروم نہ رہوں گا
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جب ابراہیم علیہ السلام اپنی قوم اور اپنے باپ کے ایمان لانے سے مایوس ہو گئے تو کہنے لگے: ﴿ وَاَعْتَزِلُكُمْوَمَاتَدْعُوْنَمِنْدُوْنِاللّٰهِ ﴾ یعنی میں تم سے اور تمھارے بتوں سے بیزاری کا اعلان کرتا ہوں ﴿ وَاَدْعُوْارَبِّیْ﴾”اور میں یہ دعا کروں گا اپنے رب سے“ یہ دعائے عبادت اور دعائے سوال دونوں کو شامل ہے
﴿ عَسٰۤىاَلَّاۤاَكُوْنَبِدُعَآءِرَبِّیْشَقِیًّا﴾”امید ہے کہ میں اپنے رب سے دعا کر کے محروم نہ رہوں گا“ یعنی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ میری دعا اور اعمال کو قبول فرما کر مجھے سعادت سے نواز دے۔ یہ اس داعی حق کا وظیفہ ہے جو ایسے لوگوں سے مایوس ہو گیا تھا جن کو اس نے اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی مگر وہ اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرتے رہے اور وعظ و نصیحت نے ان کو کوئی فائدہ نہیں دیا اور وہ اپنی سرکشی میں اصرار کے ساتھ سرگرداں رہے۔
جو کوئی اس قسم کی صورت حال میں مبتلا ہو جائے تو اس پر فرض ہے کہ وہ اپنے نفس کی اصلاح میں مشغول رہے اور اپنے رب سے امید رکھے کہ وہ اس کی کوشش کو قبول فرمائے گا اور وہ شر اور اہل شر سے دور رہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فلما أيس من قومه وأبيه؛ قال: {وأعتزِلُكم وما تدعونَ من دون الله}؛ أي: أنتم وأصنامكم، {وأدعو ربِّي}: وهذا شاملٌ لدعاء العبادة ودعاء المسألة، {عسى أن لا أكونَ بدُعاء ربِّي شَقِيًّا}؛ أي: عسى الله أن يسعِدَني بإجابة دعائي وقَبول أعمالي، وهذه وظيفةُ من أيس ممَّن دعاهم ـ فاتَّبعوا أهواءهم، فلم تنجَعْ فيهم المواعظُ، فأصرُّوا في طغيانهم يعمهون ـ أنْ يشتغلَ بإصلاح نفسه، ويرجو القبولَ من ربِّه، ويعتزل الشرَّ وأهله.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔