تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ مريم (19) — آیت 2

ذِکۡرُ رَحۡمَتِ رَبِّکَ عَبۡدَہٗ زَکَرِیَّا ۖ﴿ۚ۲﴾
تیرے رب کی اپنے بندے زکریا پر رحمت کا ذکر ہے۔ En
(یہ) تمہارے پروردگار کی مہربانی کا بیان (ہے جو اس نے) اپنے بندے زکریا پر (کی تھی)
En
یہ ہے تیرے پروردگار کی اس مہربانی کا ذکر جو اس نے اپنے بندے زکریا پر کی تھی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهٗ زَكَرِیَّ٘ا یہ آپ کے رب کی اپنے بندے زکریا پر رحمت کا ذکر ہے۔ جو ہم آپ کے سامنے نہایت تفصیل کے ساتھ بیان کریں گے جس سے اللہ تعالیٰ کے نبی زکریا علیہ السلام کے احوال، ان کے آثار صالحہ اور مناقب جمیلہ کی معرفت حاصل ہو گی کیونکہ اس قصے میں عبرت حاصل کرنے والوں کے لیے عبرت اور پیروی کرنے والوں کے لیے ایک نمونہ ہے علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ کی اپنے دوستوں پر رحمت کا مفصل ذکر اور اس کے حصول کے اسباب کا بیان اللہ تعالیٰ کی محبت، اس کے ذکر کی کثرت، اس کی معرفت اور اس تک پہنچانے والے اسباب کی طرف دعوت دیتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت زکریا علیہ السلام کو اپنی رسالت کے لیے چن لیا اورانھیں اپنی وحی کے لیے مختص کر لیا۔ انھوں نے اس ذمہ داری کو اسی طرح ادا کیا جس طرح دیگر انبیاء و مرسلین نے ادا کیا۔ بندوں کو اپنے رب کی طرف دعوت دی اور انھیں وہ تعلیم دی جو اللہ تعالیٰ نے ان کو دی تھی۔ اپنی زندگی میں اور اپنی موت کے بعد ان کی اسی طرح خیرخواہی کی جیسے ان کے برادران دیگر انبیاء و مرسلین اور ان کے متبعین نے کی تھی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: هذا {ذِكْرُ رحمةِ ربِّك عبدَه زكريَّا}: سنقصُّه عليك، ونفصِّله تفصيلاً يُعرِّف به حالة نبيِّه زكريا وآثاره الصالحة ومناقبه الجميلة؛ فإنَّ في قصِّها عبرة للمعتبرين وأسوة للمقتدين، ولأنَّ في تفصيل رحمته لأوليائِهِ وبأيِّ سبب حصلت لهم مما يدعو إلى محبَّة الله تعالى والإكثار من ذكرِهِ ومعرفتِهِ والسبب الموصل إليه، وذلك أنَّ الله تعالى اجتبى واصطفى زكريَّا عليه السلام لرسالتِهِ، وخصَّه بوحيه، فقام بذلك قيام أمثاله من المرسلين، ودعا العباد إلى ربِّه، وعلَّمهم ما علَّمه الله، ونصح لهم في حياته وبعد مماتِهِ كإخوانه من المرسلين ومن اتَّبعهم.