تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الكهف (18) — آیت 83

وَ یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنۡ ذِی الۡقَرۡنَیۡنِ ؕ قُلۡ سَاَتۡلُوۡا عَلَیۡکُمۡ مِّنۡہُ ذِکۡرًا ﴿ؕ۸۳﴾
اور وہ تجھ سے ذوالقرنین کے بارے میں پوچھتے ہیں تو کہہ میں تمھیں اس کا کچھ ذکر ضرور پڑھ کر سناؤں گا۔ En
اور تم سے ذوالقرنین کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ میں اس کا کسی قدر حال تمہیں پڑھ کر سناتا ہوں
En
آپ سے ذوالقرنین کا واقعہ یہ لوگ دریافت کر رہے ہیں، آپ کہہ دیجئے کہ میں ان کا تھوڑا سا حال تمہیں پڑھ کر سناتا ہوں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اہل کتاب تھے یا مشرکین انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذوالقرنین کے بارے میں سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ آپ ان سے کہیں: ﴿ سَاَتْلُوْا عَلَیْكُمْ مِّؔنْهُ ذِكْرًا میں پڑھتا ہوں تم پر اس کا کچھ حال جس میں نہایت مفید مگر تعجب خیز خبر ہے، یعنی میں تمھیں ذوالقرنین کے صرف وہی احوال سناؤں گا جن میں نصیحت اور عبرت ہے۔ ان کے علاوہ دیگر احوال تو وہ ان کو نہیں سنائے گئے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

كان أهل الكتاب أو المشركون سألوا رسولَ الله - صلى الله عليه وسلم - عن قصَّة ذي القرنين، فأمره الله أن يقول: {سأتلو عليكم منه ذِكْراً}: فيه نبأٌ مفيدٌ وخطابٌ عجيبٌ؛ أي: سأتلو عليكم من أحواله ما يُتَذَكَّر فيه ويكون عبرةً، وأما ما سوى ذلك من أحواله؛ فلم يَتْلُه عليهم.