تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الكهف (18) — آیت 7

اِنَّا جَعَلۡنَا مَا عَلَی الۡاَرۡضِ زِیۡنَۃً لَّہَا لِنَبۡلُوَہُمۡ اَیُّہُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا ﴿۷﴾
بے شک ہم نے زمین پر جو کچھ ہے اس کے لیے زینت بنایا ہے، تاکہ ہم انھیں آزمائیں ان میں سے کون عمل میں بہتر ہے۔ En
جو چیز زمین پر ہے ہم نے اس کو زمین کے لئے آرائش بنایا ہے تاکہ لوگوں کی آزمائش کریں کہ ان میں کون اچھے عمل کرنے والا ہے
En
روئے زمین پر جو کچھ ہے ہم نے اسے زمین کی رونق کا باعﺚ بنایا ہے کہ ہم انہیں آزمالیں کہ ان میں سے کون نیک اعمال واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے روئے زمین پر پائی جانے والی ہر چیز کو، لذت بھرے ماکولات و مشروبات، خوبصورت ملبوسات، اشجار و انہار، کھیتیوں، باغات، دلفریب مناظر، خوش منظر باغیچوں، سحر انگیز آوازوں، خوبصورت چہروں، سونے چاندی، اونٹوں اور گھروں، ان سب کو دنیا کی زینت، فتنہ اور آزمائش کے لیے پیدا کیا ہے۔ ﴿ لِنَبْلُوَهُمْ اَیُّهُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا تاکہ ہم ان کو آزمائیں کہ کون ان میں اچھے عمل کرتا ہے۔ یعنی کون زیادہ خالص اور زیادہ صحیح اعمال پیش کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى أنه جعل جميع ما على وجه الأرض من مآكل لذيذةٍ ومشاربَ وملابسَ طيبةٍ وأشجارٍ وأنهارٍ وزروع وثمارٍ ومناظرَ بهيجةٍ ورياضٍ أنيقةٍ وأصواتٍ شجيَّةٍ وصورٍ مليحةٍ وذهبٍ وفضةٍ وخيلٍ وإبلٍ ونحوها؛ الجميع جعله الله زينةً لهذه الدار فتنةً واختباراً؛ {لِنَبْلُوَهم أيُّهم أحسنُ عملاً}؛ أي: أخلصه وأصوبه.