تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الكهف (18) — آیت 55

وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنۡ یُّؤۡمِنُوۡۤا اِذۡ جَآءَہُمُ الۡہُدٰی وَ یَسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّہُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ تَاۡتِیَہُمۡ سُنَّۃُ الۡاَوَّلِیۡنَ اَوۡ یَاۡتِیَہُمُ الۡعَذَابُ قُبُلًا ﴿۵۵﴾
اور لوگوں کو کسی چیز نے نہیںروکا کہ وہ ایمان لائیں، جب ان کے پاس ہدایت آگئی اور اپنے رب سے بخشش مانگیں، مگر اس بات نے کہ ان کو پہلے لوگوں کا سا معاملہ پیش آجائے، یا ان پر عذاب سامنے آموجود ہو۔ En
اور لوگوں کے پاس جب ہدایت آگئی تو ان کو کس چیز نے منع کیا کہ ایمان لائیں۔ اور اپنے پروردگار سے بخشش مانگیں۔ بجز اس کے کہ (اس بات کے منتظر ہوں کہ) انہیں بھی پہلوں کا سا معاملہ پیش آئے یا ان پر عذاب سامنے آموجود ہو
En
لوگوں کے پاس ہدایت آچکنے کے بعد انہیں ایمان ﻻنے اور اپنے رب سے استغفار کرنے سے صرف اسی چیز نے روکا کہ اگلے لوگوں کا سا معاملہ انہیں بھی پیش آئے یا ان کے سامنے کھلم کھلا عذاب آموجود ہوجائے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی لوگوں کو ایمان لانے سے کس چیز نے منع کیا ہے حالانکہ ہدایت… جس سے راہ راست اور گمراہی، حق اور باطل کے درمیان فرق واضح ہوتا ہے… ان تک پہنچ چکی ہے اور ان پر حجت قائم ہو چکی ہے… ان کے ایمان نہ لانے کی یہ وجہ بھی نہیں کہ حق واضح نہیں ہوا بلکہ ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ ظلم و تعدی ہے۔ پس اب کوئی چیز باقی نہیں رہی سوائے اس کے کہ سنت الٰہی کے مطابق وہی عذاب آ جائے جو پہلی قوموں پر آیا تھا؟ جب وہ ایمان نہ لاتے تو ان پر عذاب بھیج دیا جاتا یا عذاب ان کے سامنے آ جاتا اور وہ اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ لیتے… مطلب یہ ہے کہ پس انھیں ڈرنا چاہیے اور اپنے کفر سے توبہ کرلینی چاہیے قبل اس کے کہ ان پر عذاب ٹوٹ پڑے جسے روکا نہیں جا سکتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: ما منع الناس من الإيمان ـ والحالُ أنَّ الهدى الذي يحصُلُ به الفرق بين الهدى والضلال والحقِّ والباطل قد وَصَلَ إليهم وقامت عليهم حُجَّة الله، فلم يمنعهم عدم البيان، بل منعهم الظُّلم والعدوان عن الإيمان، فلم يبقَ إلاَّ أن تأتيهم سنَّة الله وعادتُه في الأولين، من أنَّهم إذا لم يؤمنوا؛ عوجلوا بالعذاب، أو يرونَ العذاب قد أقبل عليهم، ورأوه مقابلةً ومعاينةً؛ أي: فَلْيخافوا من ذلك، ولْيتوبوا من كفرهم؛ قبل أن يكون العذاب الذي لا مردَّ له.