تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پس ان کے لیے اس کے سوا کچھ باقی نہ تھا کہ ان سے کہا جاتا کہ ان دونوں باغوں کے پھل کیسے ہیں۔ کیا ان کو سیراب کرنے کے لیے کافی پانی موجود ہے؟اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ دونوں باغوں میں سے ہر باغ کا پھل اور اس کی فصل کئی گنا ہوتی تھی ﴿ وَلَمْتَظْلِمْمِّؔنْهُشَیْـًٔؔا﴾”اور وہ نہیں گھٹاتے تھے اس میں سے کچھ“ یعنی پھل لانے میں تھوڑی سی بھی کسر نہ چھوڑی اور اس کے ساتھ ساتھ دریا پانی سے لبریز اس کے چاروں جانب بہہ رہے تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فلم يبق عليهما إلا أن يقالَ: كيف ثمارُ هاتين الجنتين؟ وهل لهما ماءٌ يكفيهما؟ فأخبر تعالى أنَّ كلًّا من {الجنتين آتت أكُلَها}؛ أي: ثمرها وزرعها ضعفين؛ أي: متضاعفاً، وأنها {لم تظلم منه شيئاً}؛ أي: لم تنقص من أُكُلِها أدنى شيء، ومع ذلك فالأنهار في جوانبها سارحة كثيرة غزيرة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔