تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الكهف (18) — آیت 33

کِلۡتَا الۡجَنَّتَیۡنِ اٰتَتۡ اُکُلَہَا وَ لَمۡ تَظۡلِمۡ مِّنۡہُ شَیۡئًا ۙ وَّ فَجَّرۡنَا خِلٰلَہُمَا نَہَرًا ﴿ۙ۳۳﴾
دونوں باغوں نے اپنا پھل دیا اور اس سے کچھ کمی نہ کی اور ہم نے دونوں کے درمیان ایک نہر جاری کر دی۔ En
دونوں باغ (کثرت سے) پھل لاتے۔ اور اس (کی پیداوار) میں کسی طرح کی کمی نہ ہوتی اور دونوں میں ہم نے ایک نہر بھی جاری کر رکھی تھی
En
دونوں باغ اپنا پھل خوب ﻻئے اور اس میں کسی طرح کی کمی نہ کی اور ہم نے ان باغوں کے درمیان نہر جاری کر رکھی تھی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پس ان کے لیے اس کے سوا کچھ باقی نہ تھا کہ ان سے کہا جاتا کہ ان دونوں باغوں کے پھل کیسے ہیں۔ کیا ان کو سیراب کرنے کے لیے کافی پانی موجود ہے؟اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ دونوں باغوں میں سے ہر باغ کا پھل اور اس کی فصل کئی گنا ہوتی تھی ﴿ وَلَمْ تَظْلِمْ مِّؔنْهُ شَیْـًٔؔا اور وہ نہیں گھٹاتے تھے اس میں سے کچھ یعنی پھل لانے میں تھوڑی سی بھی کسر نہ چھوڑی اور اس کے ساتھ ساتھ دریا پانی سے لبریز اس کے چاروں جانب بہہ رہے تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فلم يبق عليهما إلا أن يقالَ: كيف ثمارُ هاتين الجنتين؟ وهل لهما ماءٌ يكفيهما؟ فأخبر تعالى أنَّ كلًّا من {الجنتين آتت أكُلَها}؛ أي: ثمرها وزرعها ضعفين؛ أي: متضاعفاً، وأنها {لم تظلم منه شيئاً}؛ أي: لم تنقص من أُكُلِها أدنى شيء، ومع ذلك فالأنهار في جوانبها سارحة كثيرة غزيرة.