تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس کے ساتھ ساتھ کہ یہ اچھا اجر ہے۔ ﴿ مَّؔاكِثِیْنَفِیْهِاَبَدًا﴾”وہ اس میں ابد الآباد تک رہیں گے۔“ یہ اجروثواب کبھی ان سے زائل ہو گا نہ یہ اس سے دور كيے جائیں گے بلکہ ان کی یہ نعمتیں ہر وقت بڑھتی ہی رہیں گی۔ تبشیر کا ذکر تقاضا کرتا ہے کہ ان اعمال کا ذکر کیا جائے جو بشارت کے موجب ہیں اور وہ یہ ہے کہ قرآن کریم تمام اعمال صالحہ پر مشتمل ہے جو اس اجروثواب کا سبب ہیں جس سے نفس خوش ہوں گے اور روحوں کو فرحت حاصل ہو گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ومع ذلك؛ فهذا الأجر الحسن {ماكثينَ فيه أبداً}: لا يزول عنهم ولا يزولون عنه، بل نعيمُهم في كلِّ وقت متزايدٌ. وفي ذكر التبشير ما يقتضي ذِكْر الأعمال الموجبة للمبشَّر به، وهو أنَّ هذا القرآن قد اشتمل على كل عمل صالح موصل لما تستبشرُ به النفوس، وتفرحُ به الأرواح.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔