تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الكهف (18) — آیت 27

وَ اتۡلُ مَاۤ اُوۡحِیَ اِلَیۡکَ مِنۡ کِتَابِ رَبِّکَ ۚؕ لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِہٖ ۚ۟ وَ لَنۡ تَجِدَ مِنۡ دُوۡنِہٖ مُلۡتَحَدًا ﴿۲۷﴾
اور اس کی تلاوت کر جو تیری طرف تیرے رب کی کتاب میں سے وحی کی گئی ہے، اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں اور نہ اس کے سوا تو کبھی کوئی پناہ کی جگہ پائے گا۔ En
اور اپنے پروردگار کی کتاب جو تمہارے پاس بھیجی جاتی ہے پڑھتے رہا کرو۔ اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں۔ اور اس کے سوا تم کہیں پناہ کی جگہ بھی نہیں پاؤ گے
En
تیری جانب جو تیرے رب کی کتاب وحی کی گئی ہے اسے پڑھتا ره، اس کی باتوں کو کوئی بدلنے واﻻ نہیں تو اس کے سوا ہرگز ہرگز کوئی پناه کی جگہ نہ پائے گا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

تلاوت سے مراد اتباع کرنا ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جو وحی بھیجی ہے اس کے معانی کی معرفت اور ان کا فہم حاصل کر کے، اس کی دی ہوئی خبروں کی تصدیق اور اس کے اوامر و نواہی کی تعمیل کر کے اس کی اتباع کیجیے کیونکہ یہ بہت ہی جلیل القدر کتاب ہے جس کی باتوں کو کوئی تبدیل نہیں کر سکتا، ان کلمات کے صدق و عدل اور حسن میں ہر غایت و انتہا سے بڑھ جانے کی وجہ سے، ان میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہو سکتا: ﴿ وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلًا (الانعام:6؍115) آپ کے رب کی بات صدق و عدل کے اعتبار سے کامل ہے۔
پس اپنے کمال کی وجہ سے ان باتوں میں تغیر و تبدل محال ہے اگر اللہ تعالیٰ کے کلمات ناقص ہوتے تو ان میں تغیر و تبدل واقع ہو سکتا۔ اس میں قرآن کریم کی عظمت کا اظہار ہے اور اسی ضمن میں قرآن کریم کی طرف توجہ کرنے کی ترغیب ہے۔ ﴿ وَلَ٘نْ تَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا اور اس کے سوا تم کہیں پناہ کی جگہ بھی نہیں پاؤگے۔ یعنی آپ کے رب کے سوا کہیں آپ کو کوئی ٹھکانا ملے گا جہاں آپ چھپ سکیں نہ پناہ گاہ ملے گی جہاں پناہ لے سکیں۔ پس جب یہ حقیقت متعین ہو گئی کہ تمام امور میں وہی ملجاوماوی ہے تو یہ بات بھی متعین ہو گئی کہ وہی الٰہ ہے، خوشحالی اور بدحالی میں اسی کی طرف رغبت کی جائے، لوگ اپنے تمام احوا ل میں اسی کے محتاج ہیں اور اپنے تمام مطالب میں اسی سے سوال کیا جائے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

التلاوة: هي الاتِّباع؛ أي: اتَّبع ما أوحى الله إليك بمعرفة معانيه وفهمها وتصديق أخباره وامتثال أوامره ونواهيه؛ فإنَّه الكتاب الجليل، الذي لا مبدِّل لكلماته؛ أي: لا تُغَيَّر ولا تُبَدَّل لصدقها وعدلها وبلوغها من الحسن فوق كلِّ غاية، {وَتَمَّتْ كلمةُ ربِّك صدقاً وعدلاً}؛ فلكمالها استحال عليها التغييرُ والتبديل، فلو كانت ناقصةً؛ لَعَرَضَ لها ذلك أو شيءٌ منه. وفي هذا تعظيم للقرآن في ضمنه الترغيبُ على الإقبال عليه. {وَلَن تَجِدَ من دونه مُلْتَحَداً}؛ أي: لن تجد من دون ربِّك ملجأ تلجأ إليه ولا مَعاذًا تعوذ به؛ فإذا تعيَّن أنَّه وحده الملجأ في كلِّ الأمور؛ تعيَّن أن يكون هو المألوه المرغوب إليه في السرَّاء والضرَّاء، المفتَقر إليه في جميع الأحوال، المسؤول في جميع المطالب.