تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الكهف (18) — آیت 23

وَ لَا تَقُوۡلَنَّ لِشَایۡءٍ اِنِّیۡ فَاعِلٌ ذٰلِکَ غَدًا ﴿ۙ۲۳﴾
اور کسی چیز کے بارے میں ہرگز نہ کہہ کہ میں یہ کام کل ضرور کرنے والا ہوں۔ En
اور کسی کام کی نسبت نہ کہنا کہ میں اسے کل کردوں گا
En
اور ہرگز ہرگز کسی کام پر یوں نہ کہنا کہ میں اسے کل کروں گا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ نہی دیگر نواہی کی مانند (عام) ہے اگرچہ یہ ایک خاص سبب کی بنا پر ہے اور اس کے مخاطب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں مگر اس کا خطاب عام مکلفین کے لیے بھی ہے۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے روک دیا ہے کہ بندۂ مومن، مستقبل کے امور کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی مشیت کو ملائے بغیر کہے میں یہ کام کروں گا اور یہ اس لیے کہ اس میں خطرات ہیں اور وہ ہے مستقبل کے غیبی معاملات کے بارے میں کلام کرنا، جن کے بارے میں بندہ نہیں جانتا کہ وہ ان پر عمل کر سکے گا یا نہیں یا وہ ہو گا یا نہیں؟ اس طرح کہنے میں فعل کے کرنے یا نہ کرنے کا معاملہ مستقل طورپر بندے کی طرف لوٹانا ہے، حالانکہ یہ قابل احتراز شے اور ممنوع ہے کیونکہ مشیت تمام تر اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے۔ فرمایا: ﴿ وَمَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ (التکویر:81؍29) تم نہیں چاہتے مگر جو اللہ جہانوں کا رب چاہتا ہے۔ اپنے کسی امر میں اللہ کی مشیت کے ذکر کرنے میں اس امر کی آسانی، تسہیل، اس میں برکت کا حصول اور بندے کی اپنے رب سے مدد کی طلب ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هذا النهيُ كغيرِهِ، وإنْ كان لسببٍ خاصٍّ وموجه للرسول - صلى الله عليه وسلم -؛ فإنَّ الخطاب عامٌّ للمكلَّفين؛ فنهى الله أن يقولَ العبدُ في الأمور المستقبلة: {إنِّي فاعلٌ ذلك}: من دون أن يقرِنَه بمشيئة الله، وذلك لما فيه من المحذورِ، وهو الكلامُ على الغيوب المستقبلة التي لا يَدْري هل يفعلُه أم لا؟ وهل تكون أم لا؟ وفيه ردُّ الفعل إلى مشيئة العبد استقلالاً، وذلك محذورٌ محظورٌ؛ لأنَّ المشيئة كلها لله، {وما تشاؤون إلاَّ أنْ يشاءَ اللهُ ربُّ العالمين}، ولما في ذكر مشيئة الله من تيسير الأمر وتسهيلِهِ وحصول البركةِ فيه والاستعانةِ من العبد لربِّه.