تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الكهف (18) — آیت 14

وَّ رَبَطۡنَا عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ اِذۡ قَامُوۡا فَقَالُوۡا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ لَنۡ نَّدۡعُوَا۠ مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اِلٰـہًا لَّقَدۡ قُلۡنَاۤ اِذًا شَطَطًا ﴿۱۴﴾
اور ہم نے ان کے دلوں پر بند باندھ دیا، جب وہ کھڑے ہوئے تو انھوں نے کہا ہمارا رب آسمانوں اور زمین کا رب ہے، ہم اس کے سوا کسی معبود کو ہر گز نہ پکاریں گے، بلاشبہ یقینا ہم نے اس وقت حد سے گزری ہوئی بات کہی۔ En
اور ان کے دلوں کو مربوط (یعنی مضبوط) کردیا۔ جب وہ (اُٹھ) کھڑے ہوئے تو کہنے لگے کہ ہمارا پروردگار آسمانوں اور زمین کا مالک ہے۔ ہم اس کے سوا کسی کو معبود (سمجھ کر) نہ پکاریں گے (اگر ایسا کیا) تو اس وقت ہم نے بعید از عقل بات کہی
En
ہم نے ان کے دل مضبوط کردیئے تھے جب کہ یہ اٹھ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کہ ہمارا پروردگار تو وہی ہے جو آسمان وزمین کا پروردگار ہے، ناممکن ہے کہ ہم اس کے سوا کسی اور معبود کو پکاریں اگر ایسا کیا تو ہم نے نہایت ہی غلط بات کہی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَّرَبَطْنَا عَلٰى قُ٘لُوْبِهِمْ اور گرہ لگا دی ہم نے ان کے دلوں پر یعنی ہم نے انھیں صبر عطا کیا اور ان کو ثابت قدم رکھا اور ان کو اس انتہائی پریشان کن حالت میں اطمینان قلب سے نوازا۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے کہ اس نے ان کو ایمان اور ہدایت کی توفیق عطا کی اور ان کو صبر و ثبات اور طمانیت قلب سے نوازا۔ ﴿ اِذْ قَامُوْا فَقَالُوْا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ جب وہ کھڑے ہوئے، پس انھوں نے کہا ہمارا رب آسمانوں اور زمین کا رب ہے یعنی جس نے ہمیں پیدا کیا، ہماری پرورش کی اور جو ہمیں رزق عطا کرتا ہے اور ہماری تدبیر کرتا ہے وہی تمام کائنات کو پیدا کرنے والا ہے۔ وہ ان عظیم مخلوقات کو پیدا کرنے میں منفرد ہے۔ یہ بت اور خود ساختہ معبود اس کائنات کے خالق نہیں ہیں جو کسی چیز کو پیدا کر سکتے ہیں نہ رزق دے سکتے ہیں، وہ کسی نفع و نقصان کے مالک ہیں نہ موت و حیات کے اور نہ موت کے بعد دوبارہ اٹھانے پر قادر ہیں۔ پس انھوں نے توحید ربوبیت سے توحید الوہیت پر استدلال کیا اور کہا: ﴿ لَ٘نْ نَّدْعُوَاۡ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلٰهًا ہم اس کے سوا کسی کو معبود نہ پکاریں گے۔ یعنی ہم تمام مخلوقات میں سے کسی کو الہ نہیں بنائیں گے۔ ﴿لَّقَدْ قُلْنَاۤ اِذً تحقیق کہی ہم نے بات اس وقت یعنی یہ جان لینے کے باوجود کہ اللہ تعالیٰ ہمارا پروردگار اور معبود حقیقی ہے اس کے سوا کسی اور کے لیے عبادت جائز ہے نہ مناسب ہے ﴿ شَطَطًا عقل سے دور یعنی حق و صواب سے دور۔ پس انھوں نے توحید ربوبیت اور توحید الوہیت کے اقرار اور التزام کو جمع کیا اور واضح کر دیا کہ صرف یہی حق ہے اس کے سوا سب کچھ باطل ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انھیں اپنے رب کی مکمل معرفت حاصل تھی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے انھیں ہدایت عطا کی گئی تھی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وربطنا على قلوبهم}؛ أي: صبَّرناهم وثبَّتناهم وجعلنا قلوبهم مطمئنَّة في تلك الحالة المزعجة، وهذا من لطفِهِ تعالى بهم وبرِّه أنْ وفَّقهم للإيمان والهدى والصبر والثبات والطمأنينة. {إذْ قاموا فقالوا ربُّنا ربُّ السمواتِ والأرض}؛ أي: الذي خَلَقَنا ورَزَقَنا ودبَّرنا وربَّانا هو خالق السماواتِ والأرض، المنفرد بخلق هذه المخلوقات العظيمة، لا تلك الأوثان والأصنام، التي لا تَخْلُق ولا ترزُقُ ولا تملِكُ نفعاً ولا ضرًّا ولا موتاً ولا حياةً ولا نشوراً، فاستدلوا بتوحيد الربوبيَّة على توحيد الإلهيَّة. ولهذا قالوا: {لن نَدْعُوَ من دونِهِ إلهاً}؛ أي: من سائر المخلوقات، {لقد قُلْنا إذاً} ـ أي: إن دَعَوْنا معه آلهةً بعدما علمنا أنَّه الربُّ الإله الذي لا تجوز ولا تنبغي العبادة إلاَّ له ـ {شططاً}؛ أي: ميلاً عظيماً عن الحقِّ، وطريقاً بعيدة عن الصواب، فجمعوا بين الإقرار بتوحيد الربوبيَّة وتوحيد الإلهيَّة والتزام ذلك وبيان أنَّه الحقُّ وما سواه باطلٌ، وهذا دليلٌ على كمال معرفتهم بربِّهم وزيادة الهدى من الله لهم.