یہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنے رب کی آیات اور اس کی ملاقات کا انکار کیا، تو ان کے اعمال ضائع ہوگئے، سو ہم قیامت کے دن ان کے لیے کوئی وزن قائم نہیں کریں گے۔
En
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کی آیتوں اور اس کے سامنے جانے سے انکار کیا تو ان کے اعمال ضائع ہوگئے اور ہم قیامت کے دن ان کے لئے کچھ بھی وزن قائم نہیں کریں گے
یہی وه لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کی آیتوں اور اس کی ملاقات سے کفر کیا، اس لئے ان کے اعمال غارت ہوگئے پس قیامت کے دن ہم ان کا کوئی وزن قائم نہ کریں گے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پس یہ کون لوگ ہیں جن کے اعمال رائیگاں گئے، جو قیامت کے روز خود اور ان کے اہل و عیال سب خائب و خاسر ہوئے۔ آگاہ رہو، یہ تو کھلا خسارہ ہے۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَالَّذِیْنَكَفَرُوْابِاٰیٰتِرَبِّهِمْوَلِقَآىِٕهٖ﴾”یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اللہ کی آیات اور اس کی ملاقات کا انکار کیا“ یعنی جنھوں نے آیات قرآنی اور آیات عیانی، جو اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کے رسولوں، اس کی کتابوں اور یوم آخرت پر ایمان کی موجب ہیں … کا انکار کیا ﴿ فَحَبِطَتْ ﴾”پس برباد ہو گئے“ اس انکار کے باعث ﴿ اَعْمَالُهُمْفَلَانُقِیْمُلَهُمْیَوْمَالْقِیٰمَةِوَزْنًا ﴾”ان کے عمل، پس نہیں قائم کریں گے ہم ان کے لیے قیامت کے روز کوئی تول۔“ وزن کا فائدہ تو نیکیوں اور برائیوں کے مقابلے کے وقت ہوتا ہے تاکہ راجح اور مرجوح کو دیکھا جا سکے اور ان لوگوں کے پاس تو نیکیاں سرے سے ہیں ہی نہیں کیونکہ ان میں نیکیوں کے معتبر ہونے کی شرط معدوم ہے اور وہ ہے ایمان۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَمَنْیَّعْمَلْمِنَالصّٰؔلِحٰؔتِوَهُوَمُؤْمِنٌفَلَایَخٰؔفُظُلْمًاوَّلَاهَضْمًا﴾ (طٰہ:20؍112) ”جو کوئی نیک عمل کرتا ہے اور وہ مومن بھی ہے تو اسے کسی ظلم اور حق تلفی کا خوف نہ ہو گا۔“ لیکن ان کے اعمال کو شمار کیا جائے گا اور وہ اپنے اعمال کا اقرار کریں گے اور وہ گواہوں کے سامنے ذلیل و رسوا ہوں گے اور پھر ان اعمال کی پاداش میں انھیں عذاب دیا جائے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فمن هم هؤلاء الذين خسرت أعمالُهم فخسروا أنفسهم يوم القيامة وأهليهم يوم القيامة ألا ذلك هو الخسران المبين؟ {أولئك الذين كفروا بآياتِ ربهم ولقائِهِ}؛ أي: جحدوا الآيات القرآنيَّة والآيات العيانيَّة الدالَّة على وجوب الإيمان به وملائكته ورسله وكتبه واليوم الآخر. {فحبِطَت}: بسبب ذلك {أعمالُهم فلا نقيمُ لهم يوم القيامة وَزْناً}: لأنَّ الوزن فائدته مقابلةُ الحسناتِ بالسيئاتِ والنظر في الراجح منها والمرجوح، وهؤلاء لا حسنات لهم؛ لعدم شرطها، وهو الإيمان؛ كما قال تعالى: {ومَن يعملْ من الصالحاتِ وهو مؤمنٌ فلا يخافُ ظلماً ولا هضماً}، لكنْ تعدُّ أعمالهم، وتُحصى ويقرَّرون بها، ويُخْزَوْن بها على رؤوس الأشهاد ثم يعذَّبون عليها.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔