تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الكهف (18) — آیت 103

قُلۡ ہَلۡ نُنَبِّئُکُمۡ بِالۡاَخۡسَرِیۡنَ اَعۡمَالًا ﴿۱۰۳﴾ؕ
کہہ دے کیا ہم تمھیں وہ لوگ بتائیں جو اعمال میں سب سے زیادہ خسارے والے ہیں۔ En
کہہ دو کہ ہم تمہیں بتائیں جو عملوں کے لحاظ سے بڑے نقصان میں ہیں
En
کہہ دیجئے کہ اگر (تم کہو تو) میں تمہیں بتا دوں کہ باعتبار اعمال سب سے زیاده خسارے میں کون ہیں؟ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو ڈرانے کے لیے کہہ دیجیے! کیا میں تمھیں اس شخص کے بارے میں آگاہ کروں جو علی الاطلاق، اپنے اعمال میں سب سے زیادہ خائب و خاسر ہے؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: قل يا محمدُ للناس على وجه التحذير والإنذار: هل أخبِرُكُم بأخسر الناس {أعمالاً} على الإطلاق؟