تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس لیے فرمایا: ﴿ لَّوْكَانَفِیالْاَرْضِمَلٰٓىِٕكَةٌیَّمْشُوْنَمُطْمَىِٕنِّیْنَ۠ ﴾” اگر ہوتے زمین میں فرشتے پھرتے، بستے“ یعنی اگر وہ فرشتوں کو دیکھ لینے اور ان سے احکام اخذ کرنے کی طاقت رکھتے ہوتے ﴿لَـنَزَّلْنَاعَلَیْهِمْمِّنَالسَّمَآءِمَلَكًارَّسُوْلًا ﴾”تو اتارتے ہم ان پر آسمان سے کوئی فرشتہ پیغام دے کر۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فلو {كانَ في الأرض ملائكةٌ يمشونَ مطمئنِّين}: يَثْبُتون على رؤية الملائكة والتلقيِّ عنهم؛ {لَنَزَّلْنا عليهم من السماءِ مَلَكاً رسولاً}: ليمكِنَهم التلقي عنه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔