تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 48

اُنۡظُرۡ کَیۡفَ ضَرَبُوۡا لَکَ الۡاَمۡثَالَ فَضَلُّوۡا فَلَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ سَبِیۡلًا ﴿۴۸﴾
دیکھ انھوں نے کس طرح تیرے لیے مثالیں بیان کیں۔ پس گمراہ ہوگئے، سو وہ کسی راہ پر نہیں آسکتے۔ En
دیکھو انہوں نے کس کس طرح کی تمہارے بارے میں باتیں بنائیں ہیں۔ سو یہ گمراہ ہو رہے ہیں اور رستہ نہیں پاسکتے
En
دیکھیں تو سہی، آپ کے لئے کیا کیا مثالیں بیان کرتے ہیں، پس وه بہک رہے ہیں۔ اب تو راه پانا ان کے بس میں نہیں رہا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اُنْ٘ظُ٘رْؔ یعنی تعجب کے ساتھ ان کی طرف دیکھیے۔ ﴿ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ کیسے بیان کرتے ہیں وہ آپ کے لیے مثالیں جو کہ گمراہ ترین اور حق و صواب سے سب سے زیادہ ہٹی ہوئی مثالیں ہیں ﴿ فَضَلُّوْا پس وہ گمراہ ہوگئے۔ یعنی اس بارے میں وہ گمراہ ہو گئے یا یہ ضرب الامثال ان کی گمراہی کا سبب بن گئیں کیونکہ انھوں نے اپنے معاملات کی بنیاد ان مثالوں پر رکھی اور کسی فاسد چیز پر رکھی ہوئی بنیاد اس سے زیادہ فاسد ہوتی ہے۔ ﴿ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ۠ سَبِیْلًا پس وہ راہ نہیں پاسکتے یعنی انھیں کسی طور بھی راستہ نہیں مل سکتا، اس لیے ان کے نصیب میں محض گمراہی اور صرف ظلم ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

قال تعالى: {انظر}: متعجباً {كيف ضربوا لك الأمثال}: التي هي أضلُّ الأمثال وأبعدُها عن الصواب، {فضَلُّوا}: في ذلك، أو فصارت سبباً لضلالهم؛ لأنَّهم بَنَوا عليها أمرهم، والمبنيُّ على فاسدٍ أفسدُ منه. فلا يهتدون {سبيلاً}؛ أي: لا يهتدون أيَّ اهتداءٍ، فَنَصِيبُهُم الضلال المحضُ والظُّلم الصرف.