تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 33

وَ لَا تَقۡتُلُوا النَّفۡسَ الَّتِیۡ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بِالۡحَقِّ ؕ وَ مَنۡ قُتِلَ مَظۡلُوۡمًا فَقَدۡ جَعَلۡنَا لِوَلِیِّہٖ سُلۡطٰنًا فَلَا یُسۡرِفۡ فِّی الۡقَتۡلِ ؕ اِنَّہٗ کَانَ مَنۡصُوۡرًا ﴿۳۳﴾
اور اس جان کو قتل مت کرو جسے اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ اور جو شخص قتل کر دیا جائے، اس حال میں کہ مظلوم ہو تو یقینا ہم نے اس کے ولی کے لیے پورا غلبہ رکھا ہے۔ پس وہ قتل میں حد سے نہ بڑھے، یقینا وہ مدد دیا ہوا ہو گا۔ En
اور جس کا جاندار کا مارنا خدا نے حرام کیا ہے اسے قتل نہ کرنا مگر جائز طور پر (یعنی بفتویٰ شریعت) ۔ اور جو شخص ظلم سے قتل کیا جائے ہم نے اس کے وارث کو اختیار دیا ہے (کہ ظالم قاتل سے بدلہ لے) تو اس کو چاہیئے کہ قتل (کے قصاص) میں زیادتی نہ کرے کہ وہ منصورو فتحیاب ہے
En
اور کسی جان کو جس کا مارنا اللہ نے حرام کردیا ہے ہرگز ناحق قتل نہ کرنا اور جو شخص مظلوم ہونے کی صورت میں مار ڈاﻻ جائے ہم نے اس کے وارث کو طاقت دے رکھی ہے پس اسے چاہیئے کہ مار ڈالنے میں زیادتی نہ کرے بےشک وه مدد کیا گیا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس آیت کریمہ کا حکم ہر اس جان کو شامل ہے جس کے قتل کو ﴿ حَرَّمَ اللّٰهُ اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے وہ خواہ چھوٹا ہو یا بڑا، مرد ہو یا عورت، آزاد ہو یا غلام اور مسلم ہو یا کافر معاہد ﴿ اِلَّا بِالْحَقِّ سوائے اس (قتل) کے جو برحق ہومثلاً: مقتول کے قصاص میں قاتل کو قتل کرنا، شادی شدہ زانی کو قتل کرنا، مسلمانوں کی جماعت سے علیحدہ ہونے والے مرتد کو قتل کرنا اور باغی کو بغاوت کی حالت میں قتل کرنا جبکہ اس کو قتل كيے بغیر بغاوت پر قابو نہ پایا جا سکتا ہو۔ ﴿وَمَنْ قُ٘تِلَ مَظْلُوْمًا اور جو شخص ظلم سے قتل کیا جائے۔ یعنی جسے ناحق قتل کیا گیا ہو ﴿ فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّهٖ تو کی ہم نے اس کے ولی کے لیے یہاں ولی سے مراد وہ شخص ہے جو مقتول کے ورثاء اور عصبہ میں سے اس کے سب سے زیادہ قریب ہو۔ ﴿ سُلْطٰنًا دلیل یعنی ہم نے مقتول کے ولی کے لیے قاتل سے قصاص لینے کی ظاہری دلیل فراہم کر دی، نیز اسے قدری طور پر بھی قاتل پر اختیار عطا کر دیا ہے مگر یہ اس وقت ہے جب قصاص کی موجب تمام شرائط یکجا ہوں، مثلاً:ارادہ اور تعدی کے ساتھ قتل کرنا اور مقتول اور قاتل میں برابری وغیرہ۔ ﴿ فَلَا یُسْرِفْ فِّی الْقَتْلِ پس وہ قتل (کے قصاص) میں زیادتی نہ کرے۔ یعنی ولی قاتل کے قتل میں اسراف سے کام نہ لے۔ یہاں اسراف سے مراد یہ ہے کہ مقتول کا ولی قاتل کو قتل کرنے میں حد سے تجاوز کرے۔ (اس اسراف کی تین صورتیں ہیں۔)
(۱) ولی قاتل کا مثلہ کرے۔ (یعنی اسے ایذا دے دے کر مارے، ناک کاٹے، کان کاٹے، وغیرہ وغیرہ۔)
(۲) ولی قاتل کو کسی ایسی چیز کے ذریعے سے قتل کرے جس کے ذریعے سے مقتول کو قتل نہ کیا گیا ہو۔
(۳) قاتل کو چھوڑ کر کسی اور کو قتل کر دیا جائے۔
اس آیت کریمہ میں دلیل ہے کہ صرف ولی کو قصاص لینے کا حق ہے اور ولی کی اجازت کے بغیر قصاص نہیں لیا جا سکتا۔ اگر ولی قاتل کو معاف کر دے تو قصاص ساقط ہو جاتا ہے، نیز اس میں اس امر کی بھی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ قاتل اور اس کے مددگاروں کے مقابلے میں مقتول کے ولی کی مدد کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وهذا شاملٌ لكلِّ نفس حرَّم الله قتلَها من صغير وكبير وذكر وأنثى وحرٍّ وعبد ومسلم وكافرٍ له عهد، {إلاَّ بالحق}: كالنفس بالنفس، والزاني المحصن، والتارك لدينه المفارق للجماعة، والباغي في حال بغيه إذا لم يندفع إلاَّ بالقتل. {ومَن قُتِلَ مظلوماً}؛ أي: بغير حقٍّ، {فقد جَعَلْنا لوليِّه}: وهو أقرب عَصَباته وورثتِهِ إليه {سلطاناً}؛ أي: حجة ظاهرة على القصاص من القاتل، وجعلنا له أيضاً تسلُّطاً قدريًّا على ذلك، وذلك حين تجتمع الشروط الموجبة للقصاص؛ كالعمد العدوان والمكافأة. {فلا يسرفْ}: الولي {في القتل إنَّه كان منصوراً}: والإسراف مجاوزةُ الحدِّ: إما أن يمثِّل بالقاتل، أو يقتُله بغير ما قَتَلَ به، أو يَقْتُلَ غير القاتل. وفي هذه الآية دليلٌ إلى أنَّ الحقَّ في القتل للوليِّ؛ فلا يُقْتَص إلاَّ بإذنه، وإن عفا؛ سقط القصاص، وأنَّ وليَّ المقتول يُعينه الله على القاتل ومن أعانه، حتى يتمكَّن من قتله.