تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الإسراء/بني اسرائيل (17) — آیت 24

وَ اخۡفِضۡ لَہُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحۡمَۃِ وَ قُلۡ رَّبِّ ارۡحَمۡہُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیۡ صَغِیۡرًا ﴿ؕ۲۴﴾
اور رحم دلی سے ان کے لیے تواضع کا بازو جھکا دے اور کہہ اے میرے رب! ان دونوں پر رحم کر جیسے انھوں نے چھوٹا ہونے کی حالت میں مجھے پالا۔ En
اور عجزو نیاز سے ان کے آگے جھکے رہو اور ان کے حق میں دعا کرو کہ اے پروردگار جیسا انہوں نے مجھے بچپن میں (شفقت سے) پرورش کیا ہے تو بھی اُن (کے حال) پر رحمت فرما
En
اور عاجزی اور محبت کے ساتھ ان کے سامنے تواضع کا بازو پست رکھے رکھنا اور دعا کرتے رہنا کہ اے میرے پروردگار! ان پر ویسا ہی رحم کر جیسا انہوں نے میرے بچپن میں میری پرورش کی ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَاخْ٘فِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ اور جھکا دے ان کے آگے کندھے عاجزی کے، نیاز مندی سے یعنی ان کے سامنے تواضع، انکساری اور شفقت کا اظہار کرتے ہوئے جھک کر رہو۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ سے اجر کی امید پر ہو نہ کہ ان سے ڈر کی بنا پر یا ان کے مال وغیرہ کے لالچ کی وجہ سے یا اس قسم کے دیگر مقاصد کی بنا پر جن پر بندے کو اجر نہیں ملتا۔ ﴿ وَقُ٘لْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا اور کہہ، اے رب ان پر رحم فرما یعنی ان کی زندگی میں اور ان کے وفات پا جانے کے بعد ان کے لیے رحمت کی دعا کرو۔ انھوں نے بچپن میں تمھاری جو تربیت کی ہے یہ اس کا بدلہ ہے۔ اس سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ تربیت جتنی زیادہ ہو گی والدین کا حق بھی اتنا ہی زیادہ ہو جائے گا۔ اسی طرح والدین کے سوا کوئی شخص دینی اور دنیاوی امور میں کسی کی نیک تربیت کرتا ہے تو تربیت کرنے والے شخص کا اس شخص پر حق ہے جس کی اس نے تربیت کی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{واخفضْ لهما جناحَ الذُّلِّ من الرحمةِ}؛ أي: تواضع لهما ذُلًّا لهما ورحمةً واحتساباً للأجر، لا لأجل الخوف منهما أو الرجاء لما لهما ونحو ذلك من المقاصد التي لا يؤجَر عليها العبد. {وقل ربِّ ارحَمْهما}؛ أي: ادعُ لهما بالرحمة أحياءً وأمواتاً؛ جزاءً على تربيتهما إيَّاك صغيراً. وفُهِمَ من هذا أنَّه كلَّما ازدادت التربيةُ؛ ازداد الحقُّ. وكذلك من تولَّى تربية الإنسان في دينِهِ ودُنياه تربيةً صالحةً غير الأبوين؛ فإنَّ له على مَن ربَّاه حقَّ التربية.