تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النحل (16) — آیت 97

مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا مِّنۡ ذَکَرٍ اَوۡ اُنۡثٰی وَ ہُوَ مُؤۡمِنٌ فَلَنُحۡیِیَنَّہٗ حَیٰوۃً طَیِّبَۃً ۚ وَ لَنَجۡزِیَنَّہُمۡ اَجۡرَہُمۡ بِاَحۡسَنِ مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۹۷﴾
جو بھی نیک عمل کرے، مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہو تو یقینا ہم اسے ضرور زندگی بخشیں گے، پاکیزہ زندگی اور یقینا ہم انھیں ان کا اجر ضرور بدلے میں دیں گے، ان بہترین اعمال کے مطابق جو وہ کیا کرتے تھے۔ En
جو شخص نیک اعمال کرے گا مرد ہو یا عورت وہ مومن بھی ہوگا تو ہم اس کو (دنیا میں) پاک (اور آرام کی) زندگی سے زندہ رکھیں گے اور (آخرت میں) اُن کے اعمال کا نہایت اچھا صلہ دیں گے
En
جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت، لیکن باایمان ہو تو ہم اسے یقیناً نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے۔ اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انہیں ضرور ضرور دیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

بنا بریں اللہ تعالیٰ نے عمل کرنے والوں کے لیے دنیاوی اور اخروی ثواب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَهُوَ مُؤْمِنٌ جس نے نیک کام کیا مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہو اس لیے کہ ایمان، اعمال صالحہ کی صحت اور ان کی قبولیت کے لیے شرط ہے بلکہ اعمال صالحہ کو ایمان کے بغیر اعمال صالحہ کہا ہی نہیں جاسکتا۔ ایمان، اعمال صالحہ کا تقاضا کرتا ہے کیونکہ ایمان تصدیق جازم کا نام ہے۔ واجبات و مستحبات پر مشتمل اعمال جوارح ایمان کا ثمرہ ہیں۔
پس جو کوئی ایمان اور عمل صالح کو جمع کر لیتا ہے ﴿ فَلَنُحْیِیَنَّهٗ حَیٰوةً طَیِّبَةً تو ہم اس کو زندگی دیں گے اچھی زندگی یہ زندگی اطمینان قلب، سکون نفس اور ان امور کی طرف عدم التفات پر مشمل ہے جو قلب کو تشویش میں مبتلا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اس کو اس طرح رزق حلال سے نوازتا ہے کہ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا۔ ﴿ وَلَنَجْزِیَنَّهُمْ اور ہم بدلے میں دیں گے ان کو یعنی آخرت میں ﴿ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ان کے اعمال کا نہایت اچھا صلہ۔ یعنی اللہ تعالیٰ انھیں مختلف قسم کی لذات سے نوازے گا جن کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی انسان کے دل میں کبھی ان کا خیال گزرا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ انھیں دنیا میں بھی بھلائی سے نوازے گا اور آخرت میں بھی بھلائی عطا کرے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا ذكر جزاء العاملين في الدُّنيا والآخرة فقال: {مَنْ عمل صالحاً من ذَكَرٍ أو أنثى وهو مؤمنٌ}: فإنَّ الإيمان شرطٌ في صحَّة الأعمال الصالحة وقَبولها، بل لا تسمَّى أعمالاً صالحة إلاَّ بالإيمان، والإيمان مقتضٍ لها؛ فإنَّه التصديق الجازم المثمِرُ لأعمال الجوارح من الواجبات والمستحبَّات؛ فمَنْ جَمَعَ بين الإيمان والعمل الصالح؛ {فَلَنُحْيِيَنَّهُ حياةً طيبةً}: وذلك بطمأنينة قلبه وسكون نفسه وعدم التفاتِهِ لما يُشَوِّش عليه قلبه ويرزُقُه الله رزقاً حلالاً طيّباً من حيث لا يحتسب. {ولنجزِيَنَّهم}: في الآخرة {أجرَهم بأحسنِ ما كانوا يعملونَ}: من أصناف اللذَّات؛ ممَّا لا عينٌ رأتْ، ولا أذنٌ سمعتْ، ولا خطرَ على قلب بشر، فيؤتيه الله في الدُّنيا حسنةً وفى الآخرة حسنةً.