تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النحل (16) — آیت 63

تَاللّٰہِ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰۤی اُمَمٍ مِّنۡ قَبۡلِکَ فَزَیَّنَ لَہُمُ الشَّیۡطٰنُ اَعۡمَالَہُمۡ فَہُوَ وَلِیُّہُمُ الۡیَوۡمَ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۶۳﴾
اللہ کی قسم! بلاشبہ یقینا ہم نے تجھ سے پہلے بہت سی امتوں کی طرف رسول بھیجے تو شیطان نے ان کے لیے ان کے اعمال خوش نما بنا دیے۔ سو وہی آج ان کا دوست ہے اور انھی کے لیے دردناک عذاب ہے۔ En
خدا کی قسم ہم نے تم سے پہلی امتوں کی طرف بھی پیغمبر بھیجے تو شیطان نے ان کے کردار (ناشائستہ) ان کو آراستہ کر دکھائے تو آج بھی وہی ان کا دوست ہے اور ان کے لیے عذاب الیم ہے
En
واللہ! ہم نے تجھ سے پہلے کی امتوں کی طرف بھی اپنے رسول بھیجے لیکن شیطان نے ان کے اعمال بد ان کی نگاہوں میں آراستہ کر دیئے، وه شیطان آج بھی ان کا رفیق بنا ہوا ہے اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ پہلے رسول نہیں ہیں جن کو جھٹلایا گیا ہے۔ ﴿ تَاللّٰهِ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ اللہ کی قسم! ہم نے آپ سے پہلے، مختلف امتوں کی طرف رسول بھیجے۔ ایسے رسول، جو انھیں توحید کی دعوت دیتے تھے۔ ﴿ فَزَیَّنَ لَهُمُ الشَّ٘یْطٰ٘نُ اَعْمَالَهُمْ پس اچھے کر کے دکھلائے ان کو شیطان نے ان کے کام پس انھوں نے رسولوں کو جھٹلایا اور انھوں نے یہ باطل گمان کیا کہ وہ جس راستے پر چل رہے ہیں وہی حق اور ہر دکھ سے نجات دینے والا ہے اور جس راستے کی طرف انبیاء و رسل بلاتے ہیں وہ اس کے برعکس ہے۔ پس جب شیطان نے ان کے سامنے ان کے اعمال مزین کر دیے ﴿ فَهُوَ وَلِیُّهُمُ الْیَوْمَ تو وہ آج ان کا دوست ہے دنیا میں۔ پس وہ اس کی اطاعت کرنے لگے اور انھوں نے اس کو اپنا دوست بنا لیا۔ ﴿ اَفَتَتَّؔخِذُوْنَهٗ وَذُرِّیَّتَهٗۤ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِیْ وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ١ؕ بِئْ٘سَ لِلظّٰلِمِیْنَ بَدَلًا (الکھف: 18؍50) کیا تم اسے اور اس کی ذریت کو میرے سوا اپنا دوست بناتے ہو حالانکہ وہ تمھارے دشمن ہیں اور یہ ظالموں کے لیے بہت برا بدل ہے۔ ﴿ وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ اور (آخرت میں) ان کے لیے دردناک عذاب ہے کیونکہ وہ اللہ رحمان کی دوستی سے منہ موڑ کر شیطان کی دوستی پر راضی ہو گئے۔ بنا بریں وہ رسوا کن عذاب کے مستحق ٹھہرے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

بين تعالى لرسوله - صلى الله عليه وسلم - أنه ليس هو أول رسول كُذِّب، فقال تعالى: {تاللهِ لقد أرسَلْنا إلى أمم من قبلِكَ}: رسلاً يدعونَهم إلى التوحيد، {فزيَّنَ لهم الشيطانُ أعمالَهم}: فكذَّبوا الرسل، وزعموا أنَّ ما هم عليه هو الحقُّ المنجِّي من كلِّ مكروه، وأنَّ ما دعت إليه الرسل؛ فهو بخلاف ذلك، فلما زيَّن لهم الشيطان أعمالَهم؛ صار {وليُّهم}: في الدنيا، فأطاعوه واتَّبعوه وتولَّوْه، {أفتتَّخِذونَهُ وذُرِّيَّتَهُ أولياء من دوني وهم لكم عدوٌّ بئسَ للظالمينَ بدلاً}. {ولهم عذابٌ أليمٌ}: في الآخرة؛ حيث تولَّوا عن ولاية الرحمن ورَضُوا بولاية الشيطان، فاستحقُّوا لذلك عذاب الهوان.