تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النحل (16) — آیت 60

لِلَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ مَثَلُ السَّوۡءِ ۚ وَ لِلّٰہِ الۡمَثَلُ الۡاَعۡلٰی ؕ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿٪۶۰﴾
ان لوگوں کا جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، بہت برا حال ہے اور اللہ کی سب سے اونچی صفت ہے اور وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔ En
جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان ہی کے لیے بری باتیں (شایان) ہیں۔ اور خدا کو صفت اعلیٰ (زیب دیتی ہے) اور وہ غالب حکمت والا ہے
En
آخرت پر ایمان نہ رکھنے والوں کی ہی بری مثال ہے، اللہ کے لیے تو بہت ہی بلند صفت ہے، وه بڑا ہی غالب اور باحکمت ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

چونکہ یہ بری مثال تھی جس کو اللہ تعالیٰ کے دشمنوں، مشرکین نے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ مَثَلُ السَّوْءِ ان لوگوں کے واسطے جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے، بری مثال ہے ناقص مثال اور کامل عیب ﴿ وَلِلّٰهِ الْ٘مَثَلُ الْاَعْلٰى اور اللہ کے لیے مثال ہے سب سے بلند اس سے مراد ہر وصف کمال ہے اور تمام کائنات میں جو بھی صفت کمال پائی جاتی ہے اللہ تعالیٰ اس کا سب سے زیادہ مستحق ہے اور کسی بھی پہلو سے کسی نقص کو مستلزم نہیں ہے اور اس کے اولیاء کے دلوں میں بھی مثل اعلیٰ یعنی اس کی تعظیم، اجلال، محبت، اس کی طرف انابت اور اس کی معرفت جاگزیں ہے۔ ﴿ وَهُوَ الْ٘عَزِیْزُ اور وہ زبردست ہے جو تمام اشیاء پر غالب ہے اور تمام کائنات اس کی مطیع ہے ﴿ الْحَكِیْمُ حکمت والا ہے جو تمام اشیاء کو ان کے لائق محل و مقام پر رکھتا ہے۔ وہ جو بھی حکم دیتا ہے اور جو بھی فعل سرانجام دیتا ہے، اس پر اس کی ستائش کی جاتی ہے اور اس کے کمال پر اس کی ثنا بیان کی جاتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولما كان هذا من أمثال السَّوْء التي نسبها إليه أعداؤه المشركون؛ قال تعالى: {للذين لا يؤمنون بالآخرة مَثَلُ السَّوْء}؛ أي: المثل الناقص والعيب التامُّ. {ولله المَثَل الأعلى}: وهو كلُّ صفة كمال، وكلُّ كمال في الوجود فالله أحقُّ به من غير أن يستلزم ذلك نقصاً بوجه، وله المثل الأعلى في قلوب أوليائه، وهو التعظيم والإجلال والمحبَّة والإنابة والمعرفة. {وهو العزيزُ}: الذي قَهَرَ جميع الأشياء، وانقادت له المخلوقاتُ بأسرها. {الحكيمُ}: الذي يَضَعُ الأشياء مواضِعَها فلا يأمر ولا يفعل إلا ما يُحمد عليه، ويُثنى على كماله فيه.