تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النحل (16) — آیت 51

وَ قَالَ اللّٰہُ لَا تَتَّخِذُوۡۤا اِلٰـہَیۡنِ اثۡنَیۡنِ ۚ اِنَّمَا ہُوَ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ ۚ فَاِیَّایَ فَارۡہَبُوۡنِ ﴿۵۱﴾
اور اللہ نے فرمایا تم دو معبود مت بنائو، وہ تو صرف ایک ہی معبود ہے، سو مجھی سے پس تم ڈرو۔ En
اور خدا نے فرمایا ہے کہ دو دو معبود نہ بناؤ۔ معبود وہی ایک ہے۔ تو مجھ ہی سے ڈرتے رہو
En
اللہ تعالیٰ ارشاد فرما چکا ہے کہ دو معبود نہ بناؤ۔ معبود تو صرف وہی اکیلا ہے، پس تم سب صرف میرا ہی ڈر خوف رکھو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ صرف اپنی عبادت کا حکم دیتا ہے کہ وہی یکتا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں اور اس پر وہ اس بات سے استدلال کرتا ہے کہ نعمتیں عطا کرنے والا صرف وہی اکیلا ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿ لَا تَتَّؔخِذُوْۤا اِلٰهَیْنِ اثْنَیْنِ نہ بناؤ تم معبود دو یعنی تم ان کو اللہ تعالیٰ کی الوہیت میں شریک نہ ٹھہراؤ۔ ﴿ اِنَّمَا هُوَ اِلٰ٘هٌ وَّاحِدٌ وہ صرف ایک ہی معبود ہے وہ اپنی ذات، اپنے اسماء و صفات اور اپنے افعال میں متفرد ہے۔ پس جس طرح وہ اپنی ذات، اپنے اسماء و صفات اور افعال میں ایک ہے، اسی طرح ان کو چاہیے کہ وہ عبادت میں بھی اس کو ایک مانیں۔ اسی لیے فرمایا: ﴿ فَاِیَّ٘ایَ فَارْهَبُوْنِ پس مجھ ہی سے ڈرو میرے حکم کی تعمیل اور میرے نواہی سے اجتناب کرو اور میرے ساتھ مخلوق میں سے کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ کیونکہ تمام مخلوق تو اللہ تعالیٰ کی مملوک ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يأمر تعالى بعبادته وحده لا شريك له، ويستدلُّ على ذلك بانفراده بالنعم [والوحدانية]، فقال: و {لا تتَّخذوا إلهين اثنين}؛ أي: تجعلون له شريكاً في إلهيَّته، وهو {إنَّما هو إلهٌ واحدٌ}: متوحِّد في الأوصاف العظيمة، متفرِّد بالأفعال كلِّها؛ فكما أنَّه الواحد في ذاته وأسمائِهِ ونعوته وأفعاله؛ فَلْتُوحِّدوه في عبادته، ولهذا قال: {فإيَّايَ فارْهَبونِ}؛ أي: خافوني، وامتثلوا أمري، واجتنبوا نهيي من غير أن تشركوا شيئاً من المخلوقات؛ فإنَّها كلها لله تعالى مملوكة.