تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النحل (16) — آیت 42

الَّذِیۡنَ صَبَرُوۡا وَ عَلٰی رَبِّہِمۡ یَتَوَکَّلُوۡنَ ﴿۴۲﴾
وہ لوگ جنھوں نے صبر کیا اور اپنے رب ہی پر بھروسا کرتے ہیں۔ En
یعنی وہ لوگ جو صبر کرتے ہیں اور اپنے پروردگار پر بھروسا رکھتے ہیں
En
وه جنہوں نے دامن صبر نہ چھوڑا اور اپنے پالنے والے ہی پر بھروسہ کرتے رہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے اولیاء کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَلَّذِیْنَ صَبَرُوْا وہ لوگ جو صبر کرتے ہیں۔ یعنی وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے اوامر و نواہی، اللہ تعالیٰ کی تکلیف دہ قضاوقدر اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں اذیتوں پر صبر کرتے ہیں ﴿ وَعَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَؔكَّلُ٘وْنَ اور وہ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے محبوب امور کے نفاذ میں اپنے آپ پر بھروسہ نہیں کرتے بلکہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اسی طرح ان کے تمام معاملات سرانجام پاتے ہیں اور ان کے احوال درست رہتے ہیں کیونکہ صبر اور توکل تمام امور کا سرمایہ ہے۔ جب بھی کوئی شخص کسی بھلائی سے محروم ہوتا ہے تو عدم صبر اور اپنے مقصود میں عدم جہد کی وجہ سے ناکام ہوتا ہے یا اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر اعتماد اور توکل نہیں کرتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم ذَكَرَ وصف أوليائه، فقال: {الذين صَبَروا}: على أوامر الله، وعن نواهيه، وعلى أقدار الله المؤلمة، وعلى الأذيَّة فيه والمحن. {وعلى ربِّهم يتوكَّلون}؛ أي: يعتمدون عليه في تنفيذ محابِّه لا على أنفسهم، وبذلك تنجحُ أمورُهم وتستقيم أحوالُهم؛ فإنَّ الصبر والتوكُّل ملاكُ الأمور كلِّها؛ فما فات أحداً شيءٌ من الخير إلا لعدم صبرِهِ وبَذْلِ جهدِهِ فيما أريد منه أو لعدم توكُّله واعتماده على الله.