تاکہ وہ قیامت کے دن اپنے بوجھ پورے اٹھائیں اور کچھ بوجھ ان کے بھی جنھیں وہ علم کے بغیر گمراہ کرتے ہیں۔ سن لو! برا ہے جو بوجھ وہ اٹھا رہے ہیں۔
En
(اے پیغمبر ان کو بکنے دو) یہ قیامت کے دن اپنے (اعمال کے) پورے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور جن کو یہ بےتحقیق گمراہ کرتے ہیں ان کے بوجھ بھی اٹھائیں گے۔ سن رکھو کہ جو بوجھ اٹھا رہے ہیں برے ہیں
اسی کا نتیجہ ہوگا کہ قیامت کے دن یہ لوگ اپنے پورے بوجھ کے ساتھ ہی ان کے بوجھ کے بھی حصے دار ہوں گے جنہیں بے علمی سے گمراه کرتے رہے۔ دیکھو تو کیسا برا بوجھ اٹھا رہے ہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یہ ان کا نظریہ تھا اور انھوں نے اپنے پیروکاروں کو اس نظریہ کے قبول کرنے کی دعوت دی اور اس طرح انھوں نے ان کا بوجھ اٹھایا اور قیامت تک کے لیے ان لوگوں کا بوجھ بھی اٹھا لیا جو ان کی پیروی کریں گے۔﴿وَمِنْاَوْزَارِالَّذِیْنَیُضِلُّوْنَهُمْبِغَیْرِعِلْمٍ﴾”اور ان لوگوں کا بوجھ، جن کو وہ گمراہ کرتے ہیں بغیر علم کے“ یعنی اپنے مقلدین کا بوجھ بھی اٹھائیں گے جن کے پاس کوئی علم نہیں سوائے اس کے جس کی طرف یہ قائدین بلاتے ہیں۔ پس یہ قائدین ان کا بوجھ بھی اٹھائیں گے۔ رہے وہ لوگ جو ان کے باطل ہونے کا علم رکھتے ہیں تو ان میں ہر ایک مستقل مجرم ہے کیونکہ وہ ان کے باطل نظریات کو جانتے ہیں جس طرح وہ خود جانتے ہیں۔ ﴿ اَلَاسَآءَمَایَزِرُوْنَ ﴾”سن رکھو کہ جو بوجھ یہ اٹھا رہے ہیں، برے ہیں۔“ یعنی کتنا برا ہے وہ بھاری بوجھ جو انھوں نے اپنی پیٹھ پر اٹھا رکھا ہے۔ خود ان کے اپنے گناہوں کا اور ان لوگوں کے گناہوں کا بوجھ جن کو انھوں نے گمراہ کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فقالوا هذه المقالة، ودعوا أتباعهم إليها، وحَمَلوا وِزْرهم ووِزْرَ من انقاد لهم إلى يوم القيامة، وقوله: {ومِنْ أوزار الذين يُضِلُّونهم بغير علم}؛ أي: من أوزار المقلِّدين الذين لا علم عندَهم إلاَّ ما دَعَوْهم إليه، فيحملون إثم ما دَعَوْهم إليه وأما الذين يعلمون؛ فكلٌّ مستقلٌّ بِجُرمه؛ لأنَّه عرف ما عرفوا. {ألا ساء ما يَزِرونَ}؛ أي: بئس ما حملوا من الوزر المثقِلِ لظهورهم من وِزْرهم ووِزْر من أضلُّوه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔