تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النحل (16) — آیت 23

لَاجَرَمَ اَنَّ اللّٰہَ یَعۡلَمُ مَا یُسِرُّوۡنَ وَ مَا یُعۡلِنُوۡنَ ؕ اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الۡمُسۡتَکۡبِرِیۡنَ ﴿۲۳﴾
کوئی شک نہیں کہ اللہ جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں۔ بے شک وہ تکبر کرنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔ En
یہ جو کچھ چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں خدا اس کو ضرور جانتا ہے۔ وہ سرکشوں کو ہرگز پسند نہیں کرتا
En
بےشک وشبہ اللہ تعالیٰ ہر اس چیز کو، جسے وه لوگ چھپاتے ہیں اور جسے ﻇاہر کرتے ہیں، بخوبی جانتا ہے۔ وه غرور کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ لَاجَرَمَ کوئی شک نہیں۔ یعنی یہ ایک اٹل حقیقت ہے ﴿ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَمَا یُعْلِنُوْنَ جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں بے شک اللہ اس کو جانتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے کھلے چھپے قبیح اعمال کو جانتا ہے۔ ﴿ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِیْنَ بے شک وہ غرور کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا بلکہ اللہ تعالیٰ ان سے سخت ناراض ہوتا ہے وہ ان کو ان کے عمل کی جنس کے مطابق جزا دے گا۔ ﴿ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَكْبِرُوْنَ۠ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِیْنَ (غافر:40؍60) وہ لوگ جو تکبر کی بنا پر میری عبادت سے انکار کرتے ہیں وہ ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{لا جَرَمَ}؛ أي: حقًّا لا بدَّ {أنَّ الله يعلم ما يُسِرُّون وما يُعْلِنون}: من الأعمال القبيحة. {إنَّه لا يحبُّ المستكبرين}: بل يبغضهم أشدَّ البغض، وسيجازيهم من جنس عملهم. {إنَّ الذين يستكبِرون عن عبادتي سيدخلون جهنَّم داخرين}.