تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ لَاجَرَمَ ﴾”کوئی شک نہیں۔“ یعنی یہ ایک اٹل حقیقت ہے ﴿ اَنَّاللّٰهَیَعْلَمُمَایُسِرُّوْنَوَمَایُعْلِنُوْنَ﴾”جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں بے شک اللہ اس کو جانتا ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے کھلے چھپے قبیح اعمال کو جانتا ہے۔ ﴿ اِنَّهٗلَایُحِبُّالْمُسْتَكْبِرِیْنَ﴾”بے شک وہ غرور کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا“ بلکہ اللہ تعالیٰ ان سے سخت ناراض ہوتا ہے وہ ان کو ان کے عمل کی جنس کے مطابق جزا دے گا۔ ﴿ اِنَّالَّذِیْنَیَسْتَكْبِرُوْنَ۠عَنْعِبَادَتِیْسَیَدْخُلُوْنَجَهَنَّمَدٰخِرِیْنَ﴾ (غافر:40؍60) ”وہ لوگ جو تکبر کی بنا پر میری عبادت سے انکار کرتے ہیں وہ ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{لا جَرَمَ}؛ أي: حقًّا لا بدَّ {أنَّ الله يعلم ما يُسِرُّون وما يُعْلِنون}: من الأعمال القبيحة. {إنَّه لا يحبُّ المستكبرين}: بل يبغضهم أشدَّ البغض، وسيجازيهم من جنس عملهم. {إنَّ الذين يستكبِرون عن عبادتي سيدخلون جهنَّم داخرين}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔