تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ لَاجَرَمَاَنَّهُمْفِیالْاٰخِرَةِهُمُالْخٰؔسِرُوْنَ ﴾”یقینا وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والے ہیں “ یہ وہ لوگ ہیں جو قیامت کے روز اپنی جان، مال اور اہل و عیال کے بارے میں گھاٹے میں پڑ گئے، ہمیشہ رہنے والی نعمتوں سے محروم ہو گئے اور ان کو دردناک عذاب میں ڈال دیا گیا۔ اس کے برعکس جس شخص کو جبر کے ساتھ کفر پر مجبور کیا گیا مگر اس کا دل ایمان پر مطمئن ہے اور ایمان میں پوری رغبت رکھتا ہے تو اس پر کوئی حرج ہے نہ گناہ۔ ایسے شخص کے لیے جبرواکراہ کے تحت کلمۂ کفر کہنا جائز ہے۔
یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ جبرو اکراہ کے تحت دی گئی طلاق، غلام کی آزادی، خریدوفروخت اور تمام معاہدوں کا کوئی اعتبار نہیں اور نہ ان امور پر کوئی شرعی حکم مترتب ہوتا ہے کیونکہ جب جبرواکراہ کی صورت میں کلمہء کفر کہنے پر اس پر کوئی گرفت نہیں تو دوسرے امور زیادہ اس بات کے مستحق ہیں کہ جبر کی صورت میں ان پر گرفت نہ ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{لا جرم أنهم في الآخرة هم الخاسرون}: الذين خسروا أنفسهم وأموالهم وأهليهم يوم القيامة، وفاتهم النعيمُ المقيمُ، وحصلوا على العذاب الأليم، وهذا بخلاف من أُكْرِه على الكفر وأُجْبِر عليه، وقلبُهُ مطمئنٌ بالإيمان راغبٌ فيه؛ فإنَّه لا حرج عليه ولا إثم، ويجوزُ له النُّطق بكلمة الكفر عند الإكراه عليها.
ودلَّ ذلك على أنَّ كلام المكره على الطلاق أو العتاق أو البيع أو الشراء أو سائر العقود أنَّه لا عبرةَ به ولا يترتَّب عليه حكمٌ شرعيٌّ؛ لأنَّه إذا لم يعاقَبْ على كلمة الكفر إذا أكره عليها؛ فغيرُها من باب أولى وأحرى.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔