تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النحل (16) — آیت 101

وَ اِذَا بَدَّلۡنَاۤ اٰیَۃً مَّکَانَ اٰیَۃٍ ۙ وَّ اللّٰہُ اَعۡلَمُ بِمَا یُنَزِّلُ قَالُوۡۤا اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُفۡتَرٍ ؕ بَلۡ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۰۱﴾
اور جب ہم کوئی آیت کسی دوسری آیت کی جگہ بدل کر لاتے ہیں اور اللہ زیادہ جاننے والا ہے جو وہ نازل کرتا ہے، تو وہ کہتے ہیں تو تو گھڑ کر لانے والا ہے، بلکہ ان کے اکثر نہیں جانتے۔ En
اور جب ہم کوئی آیت کسی آیت کی جگہ بدل دیتے ہیں۔ اور خدا جو کچھ نازل فرماتا ہے اسے خوب جانتا ہے تو (کافر) کہتے ہیں کہ تم یونہی اپنی طرف سے بنا لاتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں اکثر نادان ہیں
En
اور جب ہم کسی آیت کی جگہ دوسری آیت بدل دیتے ہیں اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نازل فرماتا ہے اسے وه خوب جانتا ہے تو یہ کہتے ہیں کہ تو تو بہتان باز ہے۔ بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر جانتے ہی نہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ اس قرآن کی تکذیب کرنے والوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ یہ لوگ قرآن کریم میں ایسے امور کی تلاش میں رہتے ہیں جو ان کے لیے حجت ہوں حالانکہ اللہ تبارک و تعالیٰ حاکم اور حکمت والا ہے، جو احکام کو مشروع کرتا ہے اور اپنی حکمت اور رحمت کی بنا پر کسی حکم کو بدل کر اس کی جگہ کسی دوسرے حکم کو لے آتا ہے۔ پس جب وہ اس قسم کی تبدیلی دیکھتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم میں عیب چینی کرتے ہیں ﴿ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُفْتَرٍ تو کہتے ہیں کہ تو افترا پرداز ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ بلکہ ان میں سے اکثر نادان ہیں۔ پس وہ جاہل ہیں جنھیں اپنے رب کے بارے میں کچھ علم ہے نہ شریعت کے بارے میں اور یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ جاہل کی جرح و قدح کا کوئی اعتبار نہیں کیونکہ کسی چیز کے بارے میں جرح و قدح اس کے بارے میں علم کی ایک شاخ ہے جو مدح اور قدح کی موجب ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يذكُر تعالى أنَّ المكذِّبين بهذا القرآن يتتبَّعون ما يَرَوْنَه حجَّة لهم، وهو أنَّ الله تعالى هو الحاكم الحكيم، الذي يَشْرَع الأحكام ويبدِّل حكماً مكان آخر؛ لحكمته ورحمته؛ فإذا رأوه كذلك؛ قدحوا في الرسول وبما جاء به، و {قالوا إنما أنت مُفْتَرٍ}، قال الله تعالى: {بل أكثُرهم لا يعلمونَ}: فهم جهالٌ، لا علم لهم بربِّهم ولا بشرعِهِ، ومن المعلوم أن قدح الجاهل بلا علم لا عبرةَ به؛ فإنَّ القدح في الشيء فرعٌ عن العلم به وما يشتمل عليه مما يوجب المدح والقدح.