تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحجر (15) — آیت 99

وَ اعۡبُدۡ رَبَّکَ حَتّٰی یَاۡتِیَکَ الۡیَقِیۡنُ ﴿٪۹۹﴾
اور اپنے رب کی عبادت کر، یہاں تک کہ تیرے پاس یقین آجائے۔ En
اور اپنے پروردگار کی عبادت کئے جاؤ یہاں تک کہ تمہاری موت (کا وقت) آجائے
En
اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہیں یہاں تک کہ آپ کو موت آجائے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى یَ٘اْتِیَكَ الْیَقِیْنُ اور اپنے رب کی عبادت کیجیے، یہاں تک کہ آپ کے پاس یقینی بات آجائے یعنی آپ کو موت آ جائے، یعنی اپنے تمام اوقات میں، اللہ تعالیٰ کے قرب کے لیے دائمی طور پر مختلف عبادات میں مصروف رہیے۔ پس نبی مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی حتیٰ کہ آپ کو آپ کے رب کی طرف سے واپسی کا حکم آ پہنچا۔ صلی اللہ علیہ وسلم تسلیما کثیرا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{واعبُدْ ربَّك حتى يأتِيَكَ اليقينُ}؛ أي: الموت؛ أي: استمرَّ في جميع الأوقات على التقرُّب إلى الله بأنواع العبادات. فامتثل - صلى الله عليه وسلم - أمر ربِّه، فلم يزل دائباً في العبادة حتى أتاه اليقين من ربِّه، - صلى الله عليه وسلم - تسليماً كثيراً.