تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحجر (15) — آیت 92

فَوَ رَبِّکَ لَنَسۡـَٔلَنَّہُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿ۙ۹۲﴾
سو تیرے رب کی قسم ہے! یقینا ہم ان سب سے ضرور سوال کریں گے۔ En
تمہارے پروردگار کی قسم ہم ان سے ضرور پرسش کریں گے
En
قسم ہے تیرے پالنے والے کی! ہم ان سب سے ضرور باز پرس کریں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ فَوَرَبِّكَ لَنَسْـَٔؔلَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَ پس قسم ہے آپ کے رب کی، ہم ضرور ان سب سے پوچھیں گے یعنی ان تمام لوگوں سے جنھوں نے اس قرآن میں جرح و قدح کی، اس میں عیب چینی اور اس میں تحریف کر کے اس کو بدل ڈالا۔ ﴿ عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ان کاموں کے بارے میں جو وہ کرتے رہے۔ یعنی ہم ان سے ان کے اعمال کے بارے میں ضرور پوچھیں گے۔ یہ ان کے لیے سب سے بڑی ترہیب اور ان کے اعمال پر زجروتوبیخ ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فوربِّك لنسألنَّهم أجمعين}؛ أي: جميع من قدح فيه وعابه وحرَّفه وبدله، {عمَّا كانوا يعملون}: وفي هذا أعظم ترهيب وزجر لهم عن الإقامة على ما كانوا يعملون.