تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحجر (15) — آیت 36

قَالَ رَبِّ فَاَنۡظِرۡنِیۡۤ اِلٰی یَوۡمِ یُبۡعَثُوۡنَ ﴿۳۶﴾
اس نے کہا اے میرے رب! پھر مجھے اس دن تک مہلت دے جب وہ اٹھائے جائیں گے۔ En
(اس نے) کہا کہ پروردگار مجھے اس دن تک مہلت دے جب لوگ (مرنے کے بعد) زندہ کئے جائیں گے
En
کہنے لگا کہ اے میرے رب! مجھے اس دن تک کی ڈھیل دے کہ لوگ دوباره اٹھا کھڑے کیے جائیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْۤ شیطان نے کہا، اے رب مجھے ڈھیل دے یعنی مجھے مہلت دے ﴿ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَؔ قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَ٘رِیْنَ اِلٰى یَوْمِ الْوَقْتِ الْ٘مَعْلُوْمِ قیامت کے دن تک، اللہ نے کہا، تجھ کو ڈھیل دی، اسی مقرر وقت کے دن تک اللہ تعالیٰ کا شیطان کی دعا کو قبول کر لینا اس کے حق میں اکرام و تکریم نہیں بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے شیطان اور بندوں کے لیے ابتلاء اور امتحان ہے تاکہ دشمن میں سے اس کا وہ سچا بندہ الگ ہو جائے جو اس کی اطاعت کرتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے ہمیں شیطان مردود سے بہت ڈرایا ہے اور کھول کھول کر بیان کر دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے کیا چاہتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قال ربِّ فأنْظِرْني}؛ أي: أمهِلْني {إلى يوم يُبْعَثونَ. قال فإنَّك من المُنْظَرينَ. إلى يوم الوقتِ المعلوم}: وليس إجابةُ الله لدعائِهِ كرامةً في حقِّه، وإنما ذلك امتحانٌ وابتلاءٌ من الله له وللعباد؛ ليتبيَّن الصادق الذي يطيع مولاه دون عدوه ممن ليس كذلك، ولذلك حذَّرنا منه غاية التحذير، وشرح لنا ما يريده منَّا.