تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحجر (15) — آیت 30

فَسَجَدَ الۡمَلٰٓئِکَۃُ کُلُّہُمۡ اَجۡمَعُوۡنَ ﴿ۙ۳۰﴾
تو فرشتوں نے سب کے سب نے، تمام نے سجدہ کیا۔ En
تو فرشتے تو سب کے سب سجدے میں گر پڑے
En
چنانچہ تمام فرشتوں نے سب کے سب نے سجده کر لیا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پس جب میں اس کو ٹھیک ٹھاک کر لوں یعنی جب میں اس کے جسد کی تکمیل کر چکوں ﴿ وَنَفَخْتُ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰؔجِدِیْنَ اور اپنی روح اس میں پھونک دوں تو سب اس کو سجدہ کرتے ہوئے گر پڑنا۔ پس انھوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی۔ ﴿ فَسَجَدَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَ پس تمام فرشتوں نے سجدہ کیا یہاں تاکید کے بعد تاکید کو ذکر کرنے سے مقصود یہ ہے کہ یہ اسلوب اس حقیقت پر دلالت کرے کہ فرشتوں میں سے کوئی ایک فرشتہ بھی سجدہ کرنے سے پیچھے نہیں رہا تھا اور یہ سجدہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعظیم اور آدم علیہ السلام کی تکریم کے لیے تھا کیونکہ حضرت آدم علیہ السلام وہ کچھ جانتے تھے جس کا فرشتوں کو علم نہیں تھا۔ ﴿اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ مَعَ السّٰؔجِدِیْنَ مگر ابلیس نے اس بات سے انکار کر دیا کہ وہ سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہو یہ شیطان کی آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد کے ساتھ پہلی عداوت ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فامتثلوا أمرَ ربِّهم، {فسجد الملائكةُ كلُّهم أجمعون}: تأكيدٌ بعد تأكيدٍ؛ ليدلَّ على أنه لم يتخلَّف منهم أحدٌ، وذلك تعظيماً لأمر الله وإكراماً لآدم حيث عَلِمَ ما لم يعلموا. {إلاَّ إبليسَ أبى أن يكونَ مع الساجدين}: وهذه أول عداوته لآدم وذرِّيَّته.