تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یعنی اگر ان کے پاس کوئی بڑا سا معجزہ بھی آ جائے تو یہ حق کا انکار کر دیں گے اور ہرگز ایمان نہیں لائیں گے چنانچہ فرمایا: ﴿ وَلَوْفَتَحْنَاعَلَیْهِمْبَ٘ابًامِّنَالسَّمَآءِ ﴾”اگر کھول دیں ہم ان پر دروازہ آسمان سے“ اور وہ خود اس دروازے کا عیاں طور پر مشاہدہ کر لیں اس دروازے میں سے اوپر چڑھ بھی جائیں تب بھی وہ اپنے ظلم و عناد کی بنا پر اس معجزے کا انکار کرتے ہوئے کہیں گے ﴿ اِنَّمَاسُكِّ٘رَتْاَبْصَارُنَا ﴾”باندھ دیا گیا ہے ہماری نگاہوں کو“ یعنی ہماری آنکھوں پر نشے کا پردہ آ گیا، حتی کہ ہم نے وہ کچھ دیکھا جو ہم دیکھ نہ سکتے تھے۔ ﴿ بَلْنَحْنُقَوْمٌمَّسْحُوْرُوْنَ ﴾”بلکہ ہم لوگوں پر جادو کر دیا گیا ہے“ یعنی یہ حقیقت نہیں ہے بلکہ جادو ہے۔ اور جو قوم انکار کی اس حالت کو پہنچ جائے تو ان لوگوں میں اصلاح کی کوئی امید باقی نہیں رہتی، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان آیات کا ذکر فرمایا جو انبیاء و رسل کے لائے ہوئے حق پر دلالت کرتی ہیں چنانچہ فرمایا:
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: ولو جاءتهم كلُّ آية عظيمة؛ لم يؤمنوا وكابروها، فَـ {لَو فَتَحْنا عليهم باباً من السماء}: فصاروا يعرجون فيه ويشاهدونه عياناً بأنفسهم؛ لقالوا من ظلمهم وعنادهم منكِرين لهذه الآية: {إنَّما سُكِّرَتْ أبصارُنا}؛ أي: أصابها سكر وغشاوة حتى رأينا ما لم نَرَ. {بل نحنُ قومٌ مسحورون}؛ أي: ليس هذا بحقيقة، بل هذا سحرٌ. وقوم وصلت بهم الحال إلى هذا الإنكار؛ فإنَّهم لا مطمع فيهم ولا رجاء.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔