تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ إبراهيم (14) — آیت 47

فَلَا تَحۡسَبَنَّ اللّٰہَ مُخۡلِفَ وَعۡدِہٖ رُسُلَہٗ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیۡزٌ ذُو انۡتِقَامٍ ﴿ؕ۴۷﴾
پس تو ہرگز گمان نہ کر کہ اللہ اپنے رسولوں سے اپنے وعدے کے خلاف کرنے والا ہے۔ یقینا اللہ سب پر غالب، بدلہ لینے والا ہے۔ En
تو ایسا خیال نہ کرنا کہ خدا نے جو اپنے پیغمبروں سے وعدہ کیا ہے اس کے خلاف کرے گا بےشک خدا زبردست (اور) بدلہ لینے والا ہے
En
آپ ہرگز یہ خیال نہ کریں کہ اللہ اپنے نبیوں سے وعده خلافی کرے گا، اللہ بڑا ہی غالب اور بدلہ لینے واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ پس خیال مت کریں کہ اللہ خلاف کرے گا اپنا وعدہ اپنے رسولوں سے یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور ان کے پیروکاروں کی نجات اور ان کی سعادت، رسولوں کے دشمنوں کی ہلاکت، دنیا میں ان کو بے یارومددگار چھوڑنے اور آخرت میں ان کو سزا دینے کا جو وعدہ کر رکھا ہے اس کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔ پس اس وعدے کا پورا ہونا ضروری ہے۔ کیونکہ یہ صادق القول ہستی کا وعدہ ہے جو اس نے اپنی مخلوق میں سب سے زیادہ سچے لوگوں، یعنی اپنے رسولوں کی زبان پر کیا ہے اور یہ مرتبے کے اعتبار سے بلند ترین خبر ہے… خاص طور پر اس بنا پر بھی کہ یہ حکمت الٰہی، سنت ربانی اور عقل انسانی کے مطابق ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ بے شک اللہ۔ اور اللہ تعالیٰ کو کوئی چیز بے بس نہیں کر سکتی، اس لیے کہ وہ ﴿ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ زبردست، بدلہ لینے والا ہے۔ جب وہ کسی سے انتقام لینے کا ارادہ کرتا ہے تو کوئی اس سے بچ سکتا ہے نہ اسے عاجز کر سکتا ہے اور یہ قیامت کے روز ہو گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى: {فلا تحسبنَّ الله مُخْلِفَ وعدِهِ رسلَه}: بنجاتهم ونجاة أتباعهم وسعادتهم، وإهلاك أعدائهم وخذلانهم في الدنيا وعقابهم في الآخرة؛ فهذا لا بدَّ من وقوعه؛ لأنَّه وعد به الصادقُ قولاً على ألسنة أصدق خلقه، وهم الرسل، وهذا أعلى ما يكون من الأخبار، خصوصاً وهو مطابقٌ للحكمة الإلهيَّة والسنن الربانيَّة وللعقول الصحيحة، والله تعالى لا يعجزه شيءٌ؛ فإنَّه {عزيزٌ ذو انتقام}؛ أي: إذا أراد أن ينتقم من أحدٍ؛ فإنه لا يفوته ولا يعجزه، وذلك في يوم القيامة.