تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ إبراهيم (14) — آیت 45

وَّ سَکَنۡتُمۡ فِیۡ مَسٰکِنِ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ وَ تَبَیَّنَ لَکُمۡ کَیۡفَ فَعَلۡنَا بِہِمۡ وَ ضَرَبۡنَا لَکُمُ الۡاَمۡثَالَ ﴿۴۵﴾
اور تم ان لوگوں کے رہنے کی جگہوں میں آباد رہے جنھوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور تمھارے لیے خوب واضح ہوگیا کہ ہم نے ان کے ساتھ کس طرح کیا اور ہم نے تمھارے لیے کئی مثالیں بیان کیں۔ En
اور جو لوگ اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے تم ان کے مکانوں میں رہتے تھے اور تم پر ظاہر ہوچکا تھا کہ ہم نے ان لوگوں کے ساتھ کس طرح (کا معاملہ) کیا تھا اور تمہارے (سمجھانے) کے لیے مثالیں بیان کر دی تھیں
En
اور کیا تم ان لوگوں کے گھروں میں رہتے سہتے نہ تھے جنہوں نے اپنی جانوں پر ﻇلم کیا اور کیا تم پر وه معاملہ کھلا نہیں کہ ہم نے ان کے ساتھ کیسا کچھ کیا۔ ہم نے تو (تمہارے سمجھانے کو) بہت سی مثالیں بیان کردی تھیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَ تمھارے اعمال کی کوتاہی کی وجہ یہ نہ تھی کہ تمھارے پاس واضح دلائل نہ آئے تھے۔ بلکہ ﴿ سَكَنْتُمْ فِیْ مَسٰكِنِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَتَبَیَّنَ لَكُمْ كَیْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ تم ان بستیوں میں آباد تھے جنھوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور تم پر واضح ہو گیا تھا کہ کیسا کیا ہم نے ان کے ساتھ ان کو مختلف انواع کی سزائیں دے کر اور جب انھوں نے واضح دلائل کی تکذیب کی تو کیسے ہم نے ان پر عذاب نازل کیا؟ ہم نے تمھارے سامنے واضح مثالیں بیان کر دی ہیں جو دل میں شک کا ادنیٰ سا شائبہ بھی نہیں رہنے دیتیں۔ پس ان آیات بینات نے تمھیں کوئی فائدہ نہ دیا بلکہ اس کے برعکس تم نے روگردانی کی اور اپنے باطل پر جمے رہے، حتیٰ کہ تم پر یہ روز بد آ گیا جس میں تمھاری جھوٹی معذرت خواہی کوئی فائدہ نہ دے گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{و} ليس عليكم قاصر في الدنيا من أجل الآيات البينات، بل {سكنتُم في مساكن الذين ظلموا أنفُسَهم وتبيَّن لكم كيف فعلنا بهم}: من أنواع العقوبات، وكيف أحلَّ الله بهم العقوبات حين كذَّبوا بالآيات البينات، {وضَرَبْنا لكم الأمثالَ}: الواضحة التي لا تَدَعُ أدنى شكٍّ في القلب إلا أزالته، فلم تنفعْ فيكم تلك الآيات، بل أعرضتُم ودمتُم على باطلكم، حتى صار ما صار، ووصلتُم إلى هذا اليوم الذي لا ينفع فيه اعتذارُ مَنِ اعتذر بباطل.