تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ إبراهيم (14) — آیت 43

مُہۡطِعِیۡنَ مُقۡنِعِیۡ رُءُوۡسِہِمۡ لَا یَرۡتَدُّ اِلَیۡہِمۡ طَرۡفُہُمۡ ۚ وَ اَفۡـِٕدَتُہُمۡ ہَوَآءٌ ﴿ؕ۴۳﴾
اس حال میں کہ تیز دوڑنے والے، اپنے سروں کو اوپر اٹھانے والے ہوں گے، ان کی نگاہ ان کی طرف نہیں لوٹے گی اور ان کے دل خالی ہوںگے۔ En
(اور لوگ) سر اٹھائے ہوئے (میدان قیامت کی طرف) دوڑ رہے ہوں گے ان کی نگاہیں ان کی طرف لوٹ نہ سکیں گی اور ان کے دل (مارے خوف کے) ہوا ہو رہے ہوں گے
En
وه اپنے سر اوپر اٹھائے دوڑ بھاگ کر رہے ہوں گے، خود اپنی طرف بھی ان کی نگاہیں نہ لوٹیں گی اور ان کے دل خالی اور اڑے ہوئے ہوں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿مُهْطِعِیْنَ دوڑتے ہوں گے جب پکارنے والا انھیں اللہ تعالیٰ کے حضور حساب دینے کے لیے پکارے گا تو وہ جلدی سے اس پکار پر لبیک کہیں گے، وہ اس سے بچ نہ سکیں گے، ان کا کوئی ٹھکانا ہو گا نہ کوئی پناہ گاہ ﴿ مُقْ٘نِـعِیْ رُءُوْسِهِمْ اوپر اٹھائے اپنے سر یعنی اپنے سروں کو اس طرح اٹھائے ہوئے ہوں گے کہ ان کے ہاتھ ان کی ٹھوڑیوں کے ساتھ بندھے ہوں گے جس کی وجہ سے ان کے سر اوپر کو اٹھ جائیں گے۔ ﴿ لَا یَرْتَدُّ اِلَیْهِمْ طَرْفُهُمْ١ۚ وَ اَفْـِٕدَتُهُمْ هَوَآءٌ ان کی طرف ان کی آنکھیں پھر کر نہیں آئیں گی اور ان کے دل اڑ گئے ہوں گے ان کے دل خالی ہوں گے اور حلق تک آجائیں گے مگر وہ ہر قسم کے غم و ہموم اور حزن و قلق سے لبریز ہوں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{مُهْطِعينَ}؛ أي: مسرعين إلى إجابة الداعي حين يدعوهم إلى الحضور بين يدي الله للحساب، لا امتناعَ لهم ولا محيص ولا ملجأ، {مُقنعي رؤوسهم}؛ أي: رافعيها، قد غُلَّتْ أيديهم إلى الأذقان، فارتفعت لذلك رؤوسهم، {لا يرتدُّ إليهم طرفُهم وأفئِدَتُهم هواء}؛ أي: أفئدتهم فارغةٌ من قلوبهم، قد صعدت إلى الحناجر، لكنَّها مملوءةٌ من كل همٍّ وغمٍّ وحزن وقلق.