اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے، پختہ بات کے ساتھ خوب قائم رکھتا ہے، دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں بھی اور اللہ ظالموں کو گمراہ کر دیتا ہے اور اللہ کرتا ہے جو چاہتا ہے۔
En
خدا مومنوں (کے دلوں) کو (صحیح اور) پکی بات سے دنیا کی زندگی میں بھی مضبوط رکھتا ہے اور آخرت میں بھی (رکھے گا) اور خدا بےانصافوں کو گمراہ کر دیتا ہے اور خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے
ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ پکی بات کے ساتھ مضبوط رکھتا ہے، دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی، ہاں ناانصاف لوگوں کو اللہ بہکا دیتا ہے اور اللہ جو چاہے کر گزرے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ اپنے مومن بندوں کو ثابت قدمی عطا کرتا ہے جو کامل طور پر قلبی ایمان کو قائم کرتے ہیں۔ جو اعمال جوارح کو مستلزم ہے یہ اعمال اس ایمان کا ثمرہ ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دنیا کے اندر شبہات کے وارد ہونے کے وقت ہدایت اور یقین کے ذریعے سے ثبات اور استقامت عطا کرتا ہے اور جب شہوات پیش آتی ہیں تو اللہ تعالیٰ انھیں قطعی اور پختہ ارادہ عطا کرتا ہے تب وہ خواہش نفس اور اس کی مراد پر اس امر کو مقدم رکھتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔ آخرت میں، موت کے وقت دین اسلام اور خاتمہ بالخیر پر ثابت قدمی عطا کرتا ہے اور قبر میں منکر نکیر کے سوالات کے وقت صحیح جواب کی توفیق عطا کر کے ثبات اور مضبوطی سے نوازتا ہے۔ جب میت سے پوچھا جاتا ہے ”تیرا رب کون ہے؟ تیرا دین کیا ہے؟ تیرا نبی کون ہے؟ تو اللہ تعالیٰ صحیح جواب کی طرف اس کی راہ نمائی کرتا ہے اور مومن جواب دیتا ہے ”میرا رب اللہ ہے، میرا دین اسلام ہے اور میرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔“﴿وَیُضِلُّاللّٰهُالظّٰلِمِیْنَ﴾”اور اللہ ظالموں کو گمراہ کرتا ہے۔“ یعنی دنیا و آخرت میں راہ صواب سے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں كيا بلکہ انھوں نے خود اپنے آپ پر ظلم کیا ہے۔
یہ آیت کریمہ، قبر کے امتحان، قبر کے عذاب اور اس کی نعمت اور آرام پر دلالت کرتی ہے۔ جیسا کہ قبر کے امتحان، اس کی صفت و کیفیت، قبر کے عذاب اور اس کے آرام کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہایت تواتر کے ساتھ نصوص وارد ہوئی ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى أنَّه يثبِّت عباده المؤمنين؛ أي: الذين قاموا بما عليهم من الإيمان القلبيِّ التامِّ، الذي يستلزم أعمال الجوارح ويثمِّرها، فيثبتهم الله: في الحياة الدنيا عند ورود الشبهات بالهداية إلى اليقين، وعند عروض الشهوات بالإرادة الجازمة على تقديم ما يحبُّه الله على هوى النفس ومرادها، وفي الآخرة عند الموت بالثبات على الدين الإسلاميِّ والخاتمة الحسنة، وفي القبر عند سؤال الملكين للجواب الصحيح إذا قيل للميت: من ربُّك؟ وما دينُك؟ ومن نبيُّك؟ هداهم للجواب الصحيح بأن يقولَ المؤمن: اللهُ ربِّي، والإسلامُ ديني، ومحمدٌ نبيِّي. {ويضِلُّ الله الظالمين}: عن الصواب في الدنيا والآخرة، وما ظلمهم الله ولكنَّهم ظلموا أنفسهم.
وفي هذه الآية دلالة على فتنة القبر وعذابه ونعيمه؛ كما تواترت بذلك النصوص عن النبيِّ - صلى الله عليه وسلم - في الفتنة وصفتها ونعيم القبر وعذابه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔