اور ہمیں کیا ہے کہ ہم اللہ پر بھروسا نہ کریں، حالانکہ اس نے ہمیں ہمارے راستے دکھا دیے ہیں اور ہم ہر صورت اس پر صبر کریں گے جو تم ہمیں تکلیف پہنچاؤ گے اور اللہ ہی پر پس لازم ہے کہ بھروسا کرنے والے بھروسا کریں۔
En
اور ہم کیونکر خدا پر بھروسہ نہ رکھیں حالانکہ اس نے ہم کو ہمارے (دین کے سیدھے) رستے بتائے ہیں۔ جو تکلیفیں تم ہم کو دیتے ہو اس پر صبر کریں گے۔ اور اہل توکل کو خدا ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے
آخر کیا وجہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ پر بھروسہ نہ رکھیں جبکہ اسی نے ہمیں ہماری راہیں سمجھائی ہیں۔ واللہ جو ایذائیں تم ہمیں دو گے ہم ان پر صبر ہی کریں گے۔ توکل کرنے والوں کو یہی ﻻئق ہے کہ اللہ ہی پر توکل کریں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَمَالَنَاۤاَلَّانَتَوَكَّلَعَلَىاللّٰهِوَقَدْهَدٰؔىنَاسُبُلَنَا﴾”اور ہم کو کیا ہوا کہ ہم اللہ پر بھروسہ نہ کریں اور وہ سجھا چکا ہمیں ہماری راہیں “ یعنی کون سی چیز ہمیں اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے سے روک سکتی ہے۔ حالانکہ ہم واضح حق اور ہدایت پر ہیں اور جو کوئی حق اور ہدایت کی راہ پر گامزن ہوتا ہے تو یہ ہدایت اس کے لیے توکل کی تکمیل کی موجب بنتی ہے۔ اسی طرح یہ معلوم ہونا کہ اللہ تعالیٰ راہ ہدایت پر چلنے والے کے بوجھ کی کفالت کرتا اور اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے، توکل کی دعوت دیتا ہے۔ اس کے برعکس جو کوئی حق اور ہدایت کی راہ اختیار نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ اس کی کفالت و کفایت کا ضامن نہیں ہوتا، پس اس کا حال متوکل کے حال کے برعکس ہوتا ہے۔
اس آیت کریمہ میں، انبیاء و مرسلین کی طرف سے گویا اپنی قوم کے لیے ایک عظیم معجزے کی طرف اشارہ ہے اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ انبیاء کی قوم غالب حالات میں، اقتدار اور غلبہ کی مالک ہوتی ہے۔ اس کے رسول ان کو مقابلے کی دعوت دیتے ہوئے کہتے تھے کہ وہ ان کی چالوں اور سازشوں کو ناکام کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہیں اور انھیں اللہ تعالیٰ کی کفایت کا پورا یقین ہے اور کفار کی انبیاء و مرسلین کی بیخ کنی کی خواہش اور نور حق کو بجھانے کی حرص کے باوجود، اللہ نے انبیاء و مرسلین کی کفایت کی اور انھیں کفار کے مکروکید سے بچایا۔
یہ جناب نوح علیہ السلام کے اس قول کی مانند ہے جو انھوں نے اپنی قوم سے کہا تھا ﴿یٰقَوْمِاِنْكَانَكَبُرَعَلَیْكُمْمَّقَامِیْوَتَذْكِیْرِیْبِاٰیٰتِاللّٰهِفَ٘عَلَىاللّٰهِتَوَكَّؔلْتُفَاَجْمِعُوْۤااَمْرَؔكُمْوَشُ٘رَؔكَآءَكُمْثُمَّلَایَكُنْاَمْرُؔكُمْعَلَیْكُمْغُمَّؔةًثُمَّاقْضُوْۤااِلَیَّوَلَاتُنْظِرُوْنِ﴾ (یونس: 10؍71) ”اے میری قوم! اگر تمھارے درمیان میرا قیام اور اللہ تعالیٰ کی آیات کے ذریعے سے تمھیں میرا نصیحت کرنا تم پر گراں گزرتا ہے تو میرا توکل اللہ پر ہے، پس تم اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو ساتھ لے کر ایک فیصلے پر متفق ہو جاؤ اور تمھارے اس فیصلے کا کوئی پہلو تم پر پوشیدہ نہ رہے پھر میرے خلاف جو کچھ کرنا چاہو کر گزرو اور مجھے کوئی مہلت نہ دو۔“ اسی طرح ہود علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا تھا ﴿اِنِّیْۤاُشْهِدُاللّٰهَوَاشْهَدُوْۤااَنِّیْبَرِیْٓءٌمِّمَّاتُ٘شْ٘رِكُوْنَۙ۰۰مِنْدُوْنِهٖفَؔكِیْدُوْنِیْجَمِیْعًاثُمَّلَاتُنْظِرُوْنِ﴾ (ھود: 11؍54-55) ”میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ تم نے جو اللہ کے شریک ٹھہرا رکھے ہیں میں ان سے بیزار ہوں، پس تم سب مل کر میرے خلاف چال چل لو اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو۔“
﴿ وَلَنَصْبِرَنَّعَلٰىمَاۤاٰذَیْتُمُوْنَا﴾”اور ہم ضرور ان تکلیفوں پر صبر کریں گے جو تم ہمیں دو گے“ یعنی ہم تمھیں حق کی دعوت دیتے اور تمھیں وعظ و نصیحت کرتے رہیں گے اور تمھاری طرف سے ہمیں جو تکلیف پہنچے گی ہم اس کی پروا نہ کریں گے، ہم اللہ تعالیٰ سے اجر کی امید رکھتے ہیں اور تمھاری خیرخواہی کرتے ہوئے اپنے آپ کو تمھاری اذیتوں کا عادی بنائیں گے۔ شاید کثرت نصیحت کی بنا پر اللہ تعالیٰ تمھیں ہدایت سے نواز دے۔ ﴿ وَعَلَىاللّٰهِ ﴾”اور صرف اللہ پر“ اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی پر نہیں ﴿ فَلْیَتَوَكَّلِالْمُتَوَؔكِّلُوْنَ ﴾”چاہیے کہ بھروسہ کریں بھروسہ کرنے والے“ کیونکہ اللہ تعالیٰ پر توکل ہر بھلائی کی کنجی ہے۔ آپ کومعلوم ہونا چاہیے کہ انبیاء ومرسلین توکل کے بہترین مطالب اور بلند ترین مراتب پر فائز ہیں اور وہ ہے اقامت دین میں، اللہ تعالیٰ کی مدد میں، اس کے بندوں کی راہنمائی اور ان سے گمراہی کے ازالے میں اللہ تعالیٰ پر توکل کرنا اور یہ کامل ترین توکل ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وما لنا أن لا نتوكَّل على الله وقد هدانا سُبُلَنا}؛ أي: أيُّ شيء يمنعنا من التوكُّل على الله والحال أننا على الحقِّ والهدى، ومن كان على الحقِّ والهدى؛ فإنَّ هداه يوجب له تمام التوكُّل، وكذلك ما يُعْلَمُ من أنَّ الله متكفِّل بمعونة المهتدي وكفايته، يدعو إلى ذلك؛ بخلاف من لم يكن على الحقِّ والهدى؛ فإنَّه ليس ضامناً على الله؛ فإنَّ حاله مناقضةٌ لحال المتوكِّل؟! وفي هذا كالإشارة من الرسل عليهم الصلاة والسلام لقومهم بآيةٍ عظيمةٍ، وهو أنَّ قومهم في الغالب أنَّ لهم القهر والغلبة عليهم، فتحدَّتهم رسلُهم بأنَّهم متوكِّلون على الله في دفع كيدهم ومكرهم، وجازمون بكفايته إيَّاهم، وقد كفاهم الله شرَّهم مع حرصهم على إتلافهم وإطفاء ما معهم من الحقِّ، فيكون هذا كقول نوح لقومِهِ: {يا قوم إن كان كَبُرَ عليكم مقامي وتذكيري بآيات الله فعلى الله توكَّلْتُ فأجمِعوا أمرَكم وشُركاءَكم ثمَّ لا يكنْ أمرُكم عليكم غُمَّة ثم اقضوا إليَّ ولا تُنظِرونِ ... } الآيات، وقول هود عليه السلام: {قالَ إنِّي أُشْهِدُ الله واشْهَدوا أني بريءٌ مما تشرِكونَ من دونِهِ فكيدوني جميعاً ثم لا تُنظِرونِ}. {ولَنَصْبِرَنَّ على ما آذَيْتُمونا}: ولنستمرنَّ على دعوتِكم ووعظِكم وتذكيركم، ولا نبالي بما يأتينا منكم من الأذى؛ فإنَّا سنوطِّن أنفسنا على ما ينالنا منكم من الأذى؛ احتساباً للأجر ونصحاً لكم، لعلَّ الله أن يهدِيَكم مع كثرة التذكير. {وعلى الله}: وحدَه لا على غيره، {فليتوكَّل المتوكِّلون}: فإنَّ التوكُّل عليه مفتاح لكل خير.
واعلم أن الرسل عليهم الصلاة والسلام توكُّلهم في أعلى المطالب وأشرف المراتب، وهي التوكُّل على الله في إقامة دينه ونصره وهداية عبيده وإزالة الضَّلال عنهم. وهذا أكمل ما يكون من التوكُّل.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔