اور اگر کبھی ہم واقعی تجھے اس کا کچھ حصہ دکھا دیں جس کا ہم ان سے وعدہ کرتے ہیں، یا واقعی تجھے اٹھا لیں تو تیرے ذمے صرف پہنچا دینا ہے اور ہمارے ذمے حساب لینا ہے۔
En
اور اگر ہم کوئی عذاب جس کا ان لوگوں سے وعدہ کرتے ہیں تمہیں دکھائیں (یعنی تمہارے روبرو ان پر نازل کریں) یا تمہاری مدت حیات پوری کر دیں (یعنی تمہارے انتقال کے بعد عذاب بھیجیں) تو تمہارا کام (ہمارے احکام کا) پہنچا دینا ہے اور ہمارا کام حساب لینا ہے
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا ہے کہ کفار کو جس عذاب کی وعید سنائی گئی ہے آپ اس کے بارے میں جلدی نہ کریں۔ اگر وہ اپنی سرکشی اور کفر پر جمے رہے تو وہ عذاب ان کو ضرور آئے گا جس کی ان کو وعید سنائی گئی ہے۔ ﴿ وَاِنْمَّانُرِیَنَّكَ ﴾”اگر دکھلا دیں ہم آپ کو“ یعنی ان کو عذاب دیا جانا ہم آپ کو دنیا ہی میں دکھا دیں جس سے آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔ یہ نزول عذاب اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف اور اس کی حمد و ثنا پر مبنی ہے کوئی اس میں نقص اور خامی تلاش نہیں کر سکتا اور نہ اس میں جرح و قدح کی کوئی گنجائش ہے۔ ﴿ اَوْنَتَوَفَّیَنَّكَ۠ ﴾”یا آپ کو اٹھا لیں “ یعنی ان پر نزول عذاب سے قبل اگر ہم آپ کو وفات دے دیں پس آپ اس میں مشغول نہ ہوں۔ ﴿ فَاِنَّمَاعَلَیْكَالْ٘بَلٰ٘غُ٘ ﴾”آپ کے ذمہ تو پہنچا دینا ہے۔“ اور مخلوق کے سامنے بیان کر دینا ہے ﴿ وَعَلَیْنَاالْحِسَابُ ﴾”اور حساب لینا ہمارے ذمے ہے“ ہم مخلوق سے ان کی ذمہ داریوں کا حساب لیں گے کہ انھوں نے ان کو پورا کیا ہے یا ضائع کیا ہے، پھر ہم انھیں ثواب سے نوازیں گے یا عذاب میں مبتلا کریں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى لنبيِّه محمد - صلى الله عليه وسلم -: لا تعجل عليهم بإصابة ما يوعَدون [به] من العذاب؛ فهم إن استمرُّوا على طغيانهم وكفرهم؛ فلا بدَّ أن يصيبَهم ما وُعِدوا به: إما أنْ نرينَّك إيَّاه في الدنيا فَتَقَرَّ بذلك عينك، أو نتوفَّيَنَّكَ قبل إصابتهم؛ فليس ذلك شغلاً لك. {فإنما عليك البلاغ}: والتبيين للخلق، {وعلينا الحسابُ}: فنحاسب الخلق على ما قاموا به مما عليهم وضيَّعوه، ونثيبهم أو نعاقبهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔