اور بلاشبہ یقینا ہم نے کئی رسول تجھ سے پہلے بھیجے اور ان کے لیے بیویاں اور بچے بنائے اور کسی رسول کے لیے ممکن نہ تھا کہ وہ کوئی نشانی لے آتا، مگر اللہ کے اذن سے۔ ہر وقت کے لیے ایک کتاب ہے۔
En
اور (اے محمدﷺ) ہم نے تم سے پہلے بھی پیغمبر بھیجے تھے۔ اور ان کو بیبیاں اور اولاد بھی دی تھی ۔اور کسی پیغمبر کے اختیار کی بات نہ تھی کہ خدا کے حکم کے بغیر کوئی نشانی لائے۔ ہر (حکم) قضا (کتاب میں) مرقوم ہے
ہم آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیج چکے ہیں اور ہم نے ان سب کو بیوی بچوں واﻻ بنایا تھا، کسی رسول سے نہیں ہو سکتا کہ کوئی نشانی بغیر اللہ کی اجازت کے لے آئے۔ ہر مقرره وعدے کی ایک لکھت ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے رسول نہیں ہیں جن کو لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہے کہ یہ لوگ آپ کی رسالت کو کوئی انوکھی چیز سمجھیں۔ فرمایا: ﴿ وَلَقَدْاَرْسَلْنَارُسُلًامِّنْقَبْلِكَوَجَعَلْنَالَهُمْاَزْوَاجًاوَّذُرِّیَّةً﴾”اور آپ سے پہلے ہم نے کئی رسول بھیجے اور دیں ہم نے ان کو بیویاں اور اولاد“ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن اس وجہ سے آپ کی عیب چینی نہ کریں کہ آپ کے بیوی بچے ہیں۔ آپ کے بھائی دیگر انبیاء و مرسلین کے بھی بیوی بچے تھے۔ تب وہ آپ میں کس بات پر جرح و قدح کرتے ہیں حالانکہ وہ خوب جانتے ہیں کہ آپ سے قبل انبیاء و رسل بھی اسی طرح تھے۔ ان کی یہ عیب چینی اپنی اغراض فاسدہ اور خواہشات نفس کی خاطر ہے… اگر وہ آپ سے کوئی معجزہ طلب کرتے ہیں تو اپنی خواہش کے مطابق مطالبہ کرتے ہیں۔ آپ کو کسی چیز کا بھی اختیار نہیں۔
﴿ وَمَاكَانَلِرَسُوْلٍاَنْیَّاْتِیَبِاٰیَةٍاِلَّابِـاِذْنِاللّٰهِ﴾”اور کسی رسول سے یہ نہیں ہوا کہ وہ لے آئے کوئی نشانی مگر اللہ کے حکم سے“ اور اللہ تعالیٰ معجزے دکھانے کی تب اجازت دیتا ہے جب اس کی قضا و قدر کے مطابق مقرر کیا ہوا وقت آ جاتا ہے۔ ﴿ لِكُ٘لِّاَجَلٍكِتَابٌ ﴾”ہر ایک وعدہ لکھا ہوا ہے“ اور یہ مقرر کیا ہوا وقت آگے بڑھ سکتا ہے نہ پیچھے ہٹ سکتا ہے۔ لہذا ان کا آیات و معجزات اور عذاب کے مطالبے میں جلدی مچانا اس بات کا موجب نہیں ہو سکتا کہ اللہ تعالیٰ اپنے مقررکردہ وقت کو آگے کر دے جس کو اس نے اپنی تقدیر میں موخر کر رکھا ہے۔ بایں ہمہ کہ وہ جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: لست أول رسول أرسل إلى الناس حتى يستغربوا رسالتك. فقد {أرسَلْنا رسلاً من قبلِكَ وجَعَلْنا لهم أزواجاً وذُرِّيَّةً}: فلا يعيبك أعداؤك بأن يكون لك أزواجٌ وذُرِّيَّة كما كان لإخوانك المرسلين؛ فلأيِّ شيء يقدحون فيك بذلك وهم يعلمون أن الرسل قبلك كذلك إلاَّ لأجل أغراضهم الفاسدة وأهوائهم، وإن طلبوا منك آيةً اقترحوها؛ فليس لك من الأمر شيء. فما {كان لرسول أن يأتي بآيةٍ إلاَّ بإذنِ الله}: والله لا يأذن فيها إلاَّ في وقتها الذي قدَّره وقضاه. {لكلِّ أجل كتابٌ}: لا يتقدم عليه ولا يتأخَّر عنه، فليس استعجالهم بالآيات أو بالعذاب موجباً لأنْ يقدِّم الله ما كتب أنه يؤخَّر، مع أنَّه تعالى فعَّالٌ لما يريد.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔