تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الرعد (13) — آیت 36

وَ الَّذِیۡنَ اٰتَیۡنٰہُمُ الۡکِتٰبَ یَفۡرَحُوۡنَ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ وَ مِنَ الۡاَحۡزَابِ مَنۡ یُّنۡکِرُ بَعۡضَہٗ ؕ قُلۡ اِنَّمَاۤ اُمِرۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ اللّٰہَ وَ لَاۤ اُشۡرِکَ بِہٖ ؕ اِلَیۡہِ اَدۡعُوۡا وَ اِلَیۡہِ مَاٰبِ ﴿۳۶﴾
اور وہ لوگ جنھیں ہم نے کتاب دی ہے، وہ اس پر خوش ہوتے ہیں جو تیری طرف اتارا گیا ہے اور کچھ گروہ وہ ہیں جو اس کے بعض کا انکار کرتے ہیں۔ کہہ دے مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ میںاللہ کی عبادت کروں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائوں۔ میں اسی کی طرف دعوت دیتا ہوں اور اسی کی طرف میرا لوٹنا ہے۔ En
اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس (کتاب) سے جو تم پر نازل ہوئی ہے خوش ہوتے ہیں اور بعض فرقے اس کی بعض باتیں نہیں بھی مانتے۔ کہہ دو کہ مجھ کو یہی حکم ہوا ہے کہ خدا ہی کی عبادت کروں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤں۔ میں اسی کی طرف بلاتا ہوں اور اسی کی طرف مجھے لوٹنا ہے
En
جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وه تو جو کچھ آپ پر اتارا جاتا ہے اس سے خوش ہوتے ہیں اور دوسرے فرقے اس کی بعض باتوں کے منکر ہیں۔ آپ اعلان کر دیجئے کہ مجھے تو صرف یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کی عبادت کروں اور اس کے ساتھ شریک نہ کروں، میں اسی کی طرف بلا رہا ہوں اور اسی کی جانب میرا لوٹنا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَالَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ اور وہ لوگ جن کو دی ہم نے کتاب یعنی ہم نے ان کو کتاب اللہ اور اس کی معرفت سے نوازا ﴿ یَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وہ خوش ہوتے ہیں اس پر جو نازل ہوا آپ پر پس وہ اس پر ایمان لاتے ہیں، اس کی تصدیق کرتے ہیں اور کتب الٰہیہ کی ایک دوسری کے ساتھ موافقت اور ایک دوسری کی تصدیق کرنے کی بنا پر خوش ہوتے ہیں یہ ان لوگوں کا حال ہے جو اہل کتاب میں سے ایمان لائے۔ ﴿ وَمِنَ الْاَحْزَابِ مَنْ یُّنْؔكِرُ بَعْضَهٗ اور بعض گروہ وہ ہیں جو اس کی بعض باتوں کا انکار کرتے ہیں یعنی کفار کے، حق سے منحرف، گروہ اس قرآن کے کچھ حصے کا انکار کرتے ہیں اور اس کی تصدیق نہیں کرتے۔ ﴿مَنِ اهْتَدٰؔى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَمَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا (بنی اسرائیل: 17؍15) جو کوئی راہ راست پر چلتا ہے تو اس کی راست روی اس کے اپنے لیے فائدہ مند ہے۔ اور جو کوئی گمراہی اختیار کرتا ہے تو گمراہی کا وبال بھی اسی پر ہے۔اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم آپ تو صرف ڈرانے والے اور ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلانے والے ہیں۔
﴿ قُ٘لْ اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ وَلَاۤ اُشْرِكَ بِهٖ کہہ دیجیے! مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں صرف اللہ کی عبادت کروں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤں یعنی مجھے صرف اللہ وحدہ کے لیے دین کو خالص کرنے کا حکم دیا گیا ہے ﴿ اِلَیْهِ اَدْعُوْا وَاِلَیْهِ مَاٰبِ اسی کی طرف میں بلاتا ہوں اور اسی کی طرف میرا ٹھکانا ہے یعنی وہی میرا مرجع ہے جس کی طرف میں لوٹوں گا وہ مجھے اس بات کی جزا دے گا کہ میں نے اس کے دین کی طرف لوگوں کو دعوت دی اور مجھے جو حکم دیا گیا میں نے اس کی تعمیل کی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى: {والذين آتَيْناهم الكتابَ}؛ أي: مننَّا عليهم به وبمعرفته، {يفرحون بما أنزل إليك}: فيؤمنون به ويصدِّقونه ويفرحون بموافقة الكتب بعضها لبعض وتصديق بعضها بعضاً، وهذه حال مَنْ آمن مِنْ أهل الكتابين. {ومن الأحزاب مَن ينكِرُ بعضه}؛ أي: ومن طوائف الكفار المتحزبين على الحقِّ من ينكر بعض هذا القرآن ولا يصدقه؛ فمن اهتدى فلنفسه، ومن ضلَّ؛ فإنما يضلُّ عليها، إنما أنت يا محمد منذرٌ تدعو إلى الله. {قل إنَّما أمِرْتُ أن أعبدَ الله ولا أشرك به}؛ أي: بإخلاص الدين لله وحده. {إليه أدعو وإليه مآبِ}؛ أي: مرجعي الذي أرجع به إليه، فيجازيني بما قمتُ به من الدعوة إلى دينه والقيام بما أمرت به.