تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الرعد (13) — آیت 34

لَہُمۡ عَذَابٌ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ لَعَذَابُ الۡاٰخِرَۃِ اَشَقُّ ۚ وَ مَا لَہُمۡ مِّنَ اللّٰہِ مِنۡ وَّاقٍ ﴿۳۴﴾
ان کے لیے ایک عذاب دنیا کی زندگی میں ہے اور یقینا آخرت کا عذاب زیادہ سخت ہے اور انھیں اللہ سے کوئی بھی بچانے والا نہیں۔ En
ان کو دنیا کی زندگی میں بھی عذاب ہے اور آخرت کا عذاب تو بہت ہی سخت ہے۔ اور ان کو خدا (کے عذاب سے) کوئی بھی بچانے والا نہیں
En
ان کے لئے دنیا کی زندگی میں بھی عذاب ہے، اور آخرت کا عذاب تو بہت ہی زیاده سخت ہے، انہیں اللہ کے غضب سے بچانے واﻻ کوئی بھی نہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ لَهُمْ عَذَابٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَقُّ ان کے لیے عذاب ہے دنیا کی زندگی میں اور آخرت کا عذاب تو بہت ہی سخت ہے یعنی آخرت کا عذاب اپنی شدت اور دوام کی بنا پر دنیا کے عذاب سے زیادہ سخت ہے۔ ﴿ وَمَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ اور ان کو اللہ سے بچانے والا کوئی نہیں جو انھیں اللہ کے عذاب سے بچا سکے، جب اس کے عذاب کا رخ ان کی طرف پھیر دیا جائے گا تو اسے کوئی نہیں روک سکے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{لهم عذابٌ في الحياة الدنيا ولعذابُ الآخرة أشقُّ}: من عذاب الدُّنيا؛ لشدَّته ودوامه. {وما لهم من الله من واقٍ}: يقيهم من عذابِ [اللهِ]؛ فعذابُهُ إذا وجَّهه إليهم لا مانع منه.