تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ لَهُمْعَذَابٌفِیالْحَیٰوةِالدُّنْیَاوَلَعَذَابُالْاٰخِرَةِاَشَقُّ﴾”ان کے لیے عذاب ہے دنیا کی زندگی میں اور آخرت کا عذاب تو بہت ہی سخت ہے“ یعنی آخرت کا عذاب اپنی شدت اور دوام کی بنا پر دنیا کے عذاب سے زیادہ سخت ہے۔ ﴿ وَمَالَهُمْمِّنَاللّٰهِمِنْوَّاقٍ ﴾”اور ان کو اللہ سے بچانے والا کوئی نہیں “ جو انھیں اللہ کے عذاب سے بچا سکے، جب اس کے عذاب کا رخ ان کی طرف پھیر دیا جائے گا تو اسے کوئی نہیں روک سکے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{لهم عذابٌ في الحياة الدنيا ولعذابُ الآخرة أشقُّ}: من عذاب الدُّنيا؛ لشدَّته ودوامه. {وما لهم من الله من واقٍ}: يقيهم من عذابِ [اللهِ]؛ فعذابُهُ إذا وجَّهه إليهم لا مانع منه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔