اور بلاشبہ یقینا تجھ سے پہلے کئی رسولوں کا مذاق اڑایا گیا تو میں نے ان لوگوں کو مہلت دی جنھوں نے کفر کیا، پھر میں نے انھیں پکڑ لیا تو میرا عذاب کیسا تھا۔
En
اور تم سے پہلے بھی رسولوں کے ساتھ تمسخر ہوتے رہے ہیں تو ہم نے کافروں کو مہلت دی پھر پکڑ لیا۔ سو (دیکھ لو کہ) ہمارا عذاب کیسا تھا
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ثبات کی تلقین کرتے اور تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ وَلَقَدِاسْتُهْزِئَبِرُسُلٍمِّنْقَبْلِكَ ﴾”اور ٹھٹھا کیا گیا آپ سے پہلے کتنے رسولوں کے ساتھ“ یعنی آپ پہلے رسول نہیں ہیں جس کی تکذیب کی گئی اور جسے ایذا پہنچائی گئی ہو۔ ﴿ فَاَمْلَیْتُلِلَّذِیْنَكَفَرُوْا﴾”پس میں نے کافروں کو ڈھیل دی“ یعنی جنھوں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا، میں نے ایک مدت تک ان کو مہلت دی حتیٰ کہ وہ اس گمان باطل میں مبتلا ہو گئے کہ ان کو عذاب نہیں دیا جائے گا ﴿ ثُمَّاَخَذْتُهُمْ﴾”پھر میں نے ان کو (مختلف قسم کے عذاب کے ذریعے سے) پکڑ لیا“﴿ فَكَیْفَكَانَعِقَابِ ﴾”پس کیسا تھا میرا عقاب“ اللہ تعالیٰ کی سزا بڑی سخت اور اس کا عذاب بڑا درد ناک ہے۔ وہ لوگ جو آپ کو جھٹلاتے ہیں اور آپ کا تمسخر اڑاتے ہیں، ہماری دی ہوئی مہلت سے دھوکے میں مبتلا نہ ہوں، ان کے سامنے ان سے پہلے گزری ہوئی قوموں کا نمونہ موجود ہے۔ لہذا انھیں ڈرنا چاہیے کہ کہیں ان کے ساتھ بھی وہی سلوک نہ کیا جائے جو گزشتہ نافرمان قوموں کے ساتھ کیا گیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى لرسوله مثبِّتاً له ومسلياً: {ولقد استُهْزِئ برسل من قبلِكَ}: فلستَ أوَّلَ رسول كُذِّب وأوذِيَ. {فأمليتُ للذين كفروا}: برسلهم؛ أي: أمهلتهم مدة حتى ظنُّوا أنَّهم غيرُ معذَّبين، {ثم أخذتُهم}: بأنواع العذاب. {فكيف كان عقابِ}: كان عقاباً شديداً وعذاباً أليماً؛ فلا يغترَّ هؤلاء الذين كذَّبوك واستهزؤوا بك بإمهالنا؛ فلهم أسوةٌ فيمن قبلهم من الأمم، فليحذَروا أن يُفْعَلَ بهم كما فُعِلَ بأولئك.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔