تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الرعد (13) — آیت 3

وَ ہُوَ الَّذِیۡ مَدَّ الۡاَرۡضَ وَ جَعَلَ فِیۡہَا رَوَاسِیَ وَ اَنۡہٰرًا ؕ وَ مِنۡ کُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِیۡہَا زَوۡجَیۡنِ اثۡنَیۡنِ یُغۡشِی الَّیۡلَ النَّہَارَ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّتَفَکَّرُوۡنَ ﴿۳﴾
اور وہی ہے جس نے زمین کو پھیلایا اور اس میں پہاڑ اور ندیاں بنائیں اور اس میں تمام پھلوں میں سے ایک ایک جوڑا دو، دو قسم کا بنایا، وہ رات کو دن پر اوڑھا دیتا ہے، بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو غور و فکر کرتے ہیں۔ En
اور وہ وہی ہے جس نے زمین کو پھیلایا اور اس میں پہاڑ اور دریا پیدا کئے اور ہر طرح کے میوؤں کی دو دو قسمیں بنائیں۔ وہی رات کو دن کا لباس پہناتا ہے۔ غور کرنے والوں کے لیے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں
En
اسی نے زمین پھیلا کر بچھا دی ہے اور اس میں پہاڑ اور نہریں پیدا کردی ہیں۔ اور اس میں ہر قسم کے پھلوں کے جوڑے دوہرے دوہرے پیدا کردیئے ہیں، وه رات کو دن سے چھپا دیتا ہے۔ یقیناً غور وفکر کرنے والوں کے لئے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَهُوَ الَّذِیْ مَدَّ الْاَرْضَ وہی ہے جس نے پھیلائی زمین یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین کو اپنے بندوں کے لیے تخلیق کیا، اس کو وسعت بخشی، اس میں برکت عطا کی، اپنے بندوں کے لیے اس کو پھیلایا اور اس کے اندران کے لیے فوائد و مصالح ودیعت کیے۔ ﴿ وَجَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ اور رکھے اس میں پہاڑ یعنی زمین پر بڑے بڑے پہاڑ رکھ دیے تاکہ زمین مخلوق کے ساتھ ڈھلک نہ جائے۔ اس لیے اگر پہاڑ نہ ہوتے تو زمین اپنے رہنے والوں کے ساتھ ایک طرف جھک جاتی کیونکہ زمین پانی کی سطح پر تیر رہی ہے جس کو ثبات و استقرار نہیں۔ مضبوطی کے ساتھ جمے ہوئے پہاڑوں کے ذریعے سے اس میں توازن پیدا کیا ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے زمین کے لیے میخیں بنایا ہے۔ ﴿ وَاَنْ٘هٰرًا اور دریا یعنی زمین کے اندر دریا بنائے جو انسانوں، ان کے مویشیوں اور ان کے کھیتوں کو سیراب کرتے ہیں۔ پس ان دریاؤں کے ذریعے سے درخت، کھیتیاں اور باغات اگائے اور ان کے ذریعے سے خیر کثیر برآمد کیا۔ اس لیے فرمایا: ﴿ وَمِنْ كُ٘لِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِیْهَا زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ اور ہر پھل کے رکھے اس میں جوڑے، دو دو قسم یعنی ان میں دو اصناف پیدا کیں جن کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ ڈھانکتا ہے دن پر رات کو وہ دن پر رات کو طاری کر دیتا ہے جس سے تمام آفاق پر اندھیرا چھا جاتا ہے اور ہر جاندار اپنے اپنے ٹھکانے پر پہنچ کر دن بھر کی مشقت اور تھکن کو دور کرنے کے لیے آرام کرتا ہے۔ جب وہ اپنی نیند پوری کر لیتے ہیں تو دن رات پر چھا جاتا ہے تو لوگ دن کے وقت پھیل کر اپنے مصالح کے حصول اور اپنے کام کاج میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ وَالنَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ٘ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ (القصص: 28؍73) اور یہ اس کی رحمت ہے کہ اس نے تمھارے لیے دن اور رات بنائے تاکہ تم اس میں آرام کرو اور تاکہ تم اللہ کا فضل تلاش کرو اور شاید کہ تم شکر گزار بنو۔
﴿ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ اس میں بہت سی نشانیاں ہیں۔ یعنی اس میں مطالب الہیہ پر دلائل ہیں ﴿ لِّقَوْمٍ یَّتَفَؔكَّرُوْنَؔ۠ غوروفکر کرنے والوں کے لیے۔ یعنی ان لوگوں کے لیے جو ان آیات و دلائل میں غور و فکر کرتے ہیں، انھیں عبرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو اس ہستی کی طرف راہنمائی کرتی ہیں جس نے ان کو تخلیق کیا، ان کی تدبیر کی اور ان میں تصرف کیا۔ وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی الٰہ اور کوئی عبادت کا مستحق نہیں۔ وہ غائب اور موجود ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ وہ مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے، وہ اپنے ہر کام میں حکمت رکھتا ہے، اپنے خلق و امر میں قابل تعریف، نہایت بابرکت اور بہت بلند ہستی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وهو الذي مدَّ الأرض}؛ أي: خلقها للعباد ووسَّعها وبارك فيها ومهَّدَها للعباد وأودعَ فيها من مصالحهم ما أودع، {وجعل فيها رواسيَ}؛ أي: جبالاً عظاماً؛ لئلاَّ تميدَ بالخلق؛ فإنَّه لولا الجبال؛ لمادت بأهلها؛ لأنها على تيار ماء لا ثبوت لها ولا استقرار إلا بالجبال الرَّواسي التي جعلها الله أوتاداً لها. {و} جعل فيها {أنهاراً} تسقي الآدميين وبهائمهم وحروثهم؛ فأخرج بها من الأشجار والزروع والثمار خيراً كثيراً، ولهذا قال: {ومن كلِّ الثمرات جعل فيها زوجين اثنينِ}؛ أي: صنفين مما يحتاج إليه العباد. {يُغشي الليل النهار}: فتظلم الآفاق، فيسكن كلُّ حيوان إلى مأواه، ويستريحون من التعب والنصب في النهار، ثم إذا قَضَوْا مآربهم من النوم؛ غشي النهارُ الليلَ؛ فإذا هم مصبحون [منتشرون] في مصالحهم وأعمالهم في النهار، {ومن رحمتِهِ جعل لكم الليلَ والنَّهار لتسكُنوا فيه ولِتَبْتَغوا من فضلِهِ ولعلَّكم تشكُرون}. {إنَّ في ذلك لآياتٍ}: على المطالب الإلهيَّة {لقوم يتفكَّرون}: فيها وينظرون فيها نظر اعتبارٍ دالَّة على أن الذي خلقها ودبَّرها وصرَّفها هو الله الذي لا إله إلاَّ هو، ولا معبود سواه، وأنَّه عالم الغيب والشهادة الرحمن الرحيم، وأنَّه القادر على كل شيء، الحكيم في كلِّ شيء، المحمود على ما خَلَقَه وأمر به، تبارك وتعالى.