تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الرعد (13) — آیت 29

اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوۡبٰی لَہُمۡ وَ حُسۡنُ مَاٰبٍ ﴿۲۹﴾
جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے ان کے لیے خوش حالی اور اچھا ٹھکانا ہے۔ En
جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کئے ان کے لیے خوشحالی اور عمدہ ٹھکانہ ہے
En
جو لوگ ایمان ﻻئے اور جنہوں نے نیک کام بھی کئے ان کے لئے خوشحالی ہے اور بہترین ٹھکانا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے۔ یعنی جو اپنے دل سے اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور یوم آخرت پر ایمان لائے، اعمال صالحہ یعنی اعمال قلوب، مثلاً: محبت الٰہی، خشیت الٰہی اور اللہ تعالیٰ پر امید وغیرہ اور اعمال جوارح، مثلاً: نماز وغیرہ کے ذریعے سے اس ایمان کی تصدیق کرے۔ ﴿ طُوْبٰى لَهُمْ وَحُسْنُ مَاٰبٍ ان کے لیے خوش حالی اور عمدہ ٹھکانا ہے۔ یعنی ان کا حال پاک صاف اور ان کا انجام اچھا ہے اور یہ اس بنا پر ہے کہ انھیں دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی طرف سے اکرام و تکریم حاصل ہے اور انھیں کامل راحت اور پورا اطمینان قلب عطا کیا گیا ہے۔ ان جملہ نعمتوں میں، جنت کا شجر طوبیٰ بھی شامل ہے کہ ایک سوار اس درخت کے سائے میں ایک سو سال تک چلتا رہے گا مگر سایہ ختم ہونے کو نہیں آئے گا۔ جیسا کہ صحیح احادیث میں وارد ہوا ہے۔(مسند أحمد، (3؍71)
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم قال تعالى: {الذين آمنوا وعملوا الصالحات}؛ أي: آمنوا بقلوبهم بالله وملائكته وكتبه ورسله واليوم الآخر، وصدَّقوا هذا الإيمان بالأعمال الصالحة؛ أعمال القلوب كمحبة الله وخشيته ورجائه، وأعمال الجوارح كالصلاة ونحوها. {طوبى لهم وحسنُ مآب}؛ أي: لهم حالةٌ طيبةٌ ومرجع حسنٌ، وذلك بما ينالون من رضوان الله وكرامته في الدنيا والآخرة، وإنَّ لهم كمال الراحة وتمام الطمأنينة، ومن جملة ذلك شجرةُ طوبى التي في الجنة، التي يسير الراكب في ظلِّها مائة عام ما يقطعُها؛ كما وردت بها الأحاديث الصحيحة.