ہمیشگی کے باغات، جن میں وہ داخل ہوں گے اور ان کے باپ دادوں اور ان کی بیویوں اور ان کی اولادوں میں سے جو نیک ہوئے اور فرشتے ہر دروازے میں سے ان پر داخل ہوں گے۔
En
(یعنی) ہمیشہ رہنے کے باغات جن میں وہ داخل ہوں گے اور ان کے باپ دادا اور بیبیوں اور اولاد میں سے جو نیکوکار ہوں گے وہ بھی (بہشت میں جائیں گے) اور فرشتے (بہشت کے) ہر ایک دروازے سے ان کے پاس آئیں گے
ہمیشہ رہنے کے باغات جہاں یہ خود جائیں گے اور ان کے باپ دادوں اور بیویوں اور اوﻻدوں میں سے بھی جو نیکو کار ہوں گے، ان کے پاس فرشتے ہر ہر دروازے سے آئیں گے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ جَنّٰتُعَدْنٍ ﴾”باغ ہیں ہمیشہ رہنے کے“ یعنی وہ ان جنتوں میں قیام کریں گے وہ کبھی ان سے دور نہ ہوں گے اور نہ وہ ان جنتوں سے منتقل ہونا چاہیں گے وہ سمجھتے ہیں کہ اس کے اوپر کوئی منزل نہیں … کیونکہ یہ جنتیں ایسی نعمت اور مسرت پر مشتمل ہیں جو مطلوب و مقصود ہے۔
اور ان کے لیے نعمت کی تکمیل اور ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک یہ ہے کہ ﴿ یَّدْخُلُوْنَهَا۠وَمَنْصَلَ٘حَمِنْاٰبَآىِٕهِمْوَاَزْوَاجِهِمْوَذُرِّیّٰتِهِمْ ﴾”وہ اس (جنت) میں داخل ہوں گے اور جو نیک ہوئے ان کے باپ دادا میں سے، (مردوں اور عورتوں میں سے) اور ان کی بیویوں میں سے اور ان کی اولاد میں سے۔“ اور اسی طرح ان جیسے دیگر لوگ، ان کے دوست، ہم نشین، ان کے ساتھی۔ اس لیے کہ یہ سب ان کی ازواج اور اولاد کی قبیل ہی میں شمار ہوں گے ﴿وَالْمَلٰٓىِٕكَةُیَدْخُلُوْنَعَلَیْهِمْمِّنْكُ٘لِّبَ٘ابٍ ﴾”اور فرشتے ان پر ہر دروازے سے داخل ہوں گے“ وہ انھیں سلام اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اکرام و تکریم کے ذریعے سے ہدیہ تہنیت پیش کریں گے۔ اور کہیں گے ﴿ سَلٰ٘مٌعَلَیْكُمْ ﴾”تم پر سلامتی ہو۔“ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے تم پر سلامتی اور سلام کا ہدیہ ہے جو تمھیں پیش کیا گیا ہے اور یہ سلام ہر ناخوشگوار کے زائل ہونے کو متضمن اور ہر محبوب چیز کے حصول کو مستلزم ہے ﴿ بِمَاصَبَرْتُمْ ﴾”تمھارے صبر کے سبب سے“ یہ صبر ہی ہے جس نے تمھیں ان مقامات بلند اور جنت عالیشان میں پہنچایا ﴿ فَنِعْمَعُقْبَىالدَّارِ ﴾”سو کیا خوب ہے عاقبت کا گھر“ پس جو کوئی اپنے نفس کا خیرخواہ ہے اور اس کے نزدیک اس کی قدروقیمت ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اس کے تزکیہ کے لیے پوری جدوجہد کرے شاید وہ عقل مندوں کے اوصاف سے بہرہ ور ہو سکے اور شاید اسے آخرت کے گھر سے کوئی حصہ مل سکے جو دلوں کی آرزو اور روح کا سرور ہے جو ہر قسم کی لذتوں اور فرحتوں کا جامع ہے۔ پس اس قسم کی منزل کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے اور اس قسم کے مقام کے لیے سبقت کرنی چاہیے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فسَّرها بقوله: {جناتُ عدنٍ}؛ أي: إقامةٍ لا يزولون عنها ولا يبغون عنها حِوَلاً؛ لأنَّهم لا يرون فوقها غايةً؛ لما اشتملت عليه من النعيم والسرور، الذي تنتهي إليه المطالب والغايات، ومن تمام نعيمهم وقرَّة أعينهم أنَّهم {يدخُلونها وَمَن صَلَحَ من آبائهم وأزواجهم وذرِّيَّاتهم}: من الذكور والإناث وأزواجهم؛ أي: الزوج أو الزوجة، وكذلك النظراء والأشباه والأصحاب والأحباب؛ فإنَّهم من أزواجهم وذُرِّيَّاتهم. {والملائكةُ يدخُلون عليهم من كلِّ بابٍ}: يهنونهم بالسلامة وكرامة الله لهم، ويقولون: {سلامٌ عليكم}؛ أي: حلَّت عليكم السلامة والتحيَّة من الله وحَصَلَت لكم، وذلك متضمِّنٌ لزوال كلِّ مكروه ومستلزمٌ لحصول كل محبوب {بما صبرتُم}؛ أي: صبركم هو الذي أوصلكم إلى هذه المنازل العالية والجنان الغالية. {فنعم عُقبى الدار}: فحقيقٌ بمن نصح نفسه، وكان لها عنده قيمة أن يجاهِدَها لعلَّها تأخُذُ من أوصاف أولي الألباب بنصيب، ولعلها تحظى بهذه الدار التي هي مُنْيَةُ النفوسِ وسرورُ الأرواحِ الجامعة لجميع اللَّذَّات والأفراح؛ فلمِثْلها فليعمل العاملون، وفيها فليتنافس المتنافسون.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔