تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الرعد (13) — آیت 21

وَ الَّذِیۡنَ یَصِلُوۡنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰہُ بِہٖۤ اَنۡ یُّوۡصَلَ وَ یَخۡشَوۡنَ رَبَّہُمۡ وَ یَخَافُوۡنَ سُوۡٓءَ الۡحِسَابِ ﴿ؕ۲۱﴾
اور وہ جو اس چیز کو ملاتے ہیں جس کے متعلق اللہ نے حکم دیا ہے کہ اسے ملایا جائے اور اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور برے حساب کا خوف رکھتے ہیں۔ En
اور جن (رشتہ ہائے قرابت) کے جوڑے رکھنے کا خدا نے حکم دیا ہے ان کو جوڑے رکھتے اور اپنے پروردگار سے ڈرتے رہتے اور برے حساب سے خوف رکھتے ہیں
En
اور اللہ نے جن چیزوں کے جوڑنے کا حکم دیا ہے وه اسے جوڑتے ہیں اور وه اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں اور حساب کی سختی کا اندیشہ رکھتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَالَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ اور وہ لوگ جو ملاتے ہیں جس کے ملانے کا اللہ نے حکم دیا یہ ان تمام امور کے لیے عام ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے ملانے کا حکم دیا ہے، مثلاً: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ساتھ محبت، اللہ تعالیٰ وحدہ کی عبادت اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے لیے سرتسلیم خم کرنا۔ سب اس میں داخل ہے۔ یہ لوگ اپنے ماں باپ کے ساتھ قولی اور فعلی حسن سلوک کے ذریعے سے صلہ رحمی کرتے ہیں اور ان کی نافرمانی نہیں کرتے۔ اسی طرح اپنے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ اپنے قول و فعل میں حسن سلوک کے ذریعے سے صلہ رحمی کرتے ہیں۔ اپنی بیویوں، اپنے دوستوں، ساتھیوں اور اپنے غلاموں کے دین اور دنیاوی حقوق کی کامل ادائیگی کے ذریعے سے حسن سلوک سے پیش آتے ہیں۔
اور وہ سبب جس کی بنا پر بندہ ان امور کو ملاتا ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے ملانے کا حکم دیا ہے، اللہ تعالیٰ اور روز حساب کا خوف ہے۔ بنابریں فرمایا: ﴿وَیَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ اور وہ اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔ یعنی وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کا خوف اور قیامت کے دن اس کے حضور پیش ہونے کا ڈر انھیں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے ارتکاب اور اس کے احکام میں کوتاہی سے بچاتا ہے، ان کا یہ رویہ عذاب کے ڈر اور ثواب کی امید کی بنا پر ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{والذين يصِلونَ ما أمرَ اللهُ به أن يوصَلَ}: وهذا عامٌّ في كلِّ ما أمر الله بوصله من الإيمان به وبرسوله ومحبَّته ومحبَّة رسوله والانقياد لعبادته وحده لا شريك له ولطاعة رسوله، ويصلون آباءهم وأمهاتهم ببرِّهم بالقول والفعل وعدم عقوقهم، ويصلون الأقارب والأرحام بالإحسان إليهم قولاً وفعلاً، ويصلون ما بينَهم وبين الأزواج والأصحاب والمماليك بأداء حقِّهم كاملاً موفَّراً من الحقوق الدينيَّة والدنيويَّة. والسبب الذي يجعل العبد واصلاً ما أمر الله به أن يوصَلَ خشيةُ الله وخوفُ يوم الحساب، ولهذا قال: {ويَخْشَوْنَ ربَّهم}؛ أي: يخافونه، فيمنعهم خوفُهم منه ومن القدوم عليه يوم الحساب أن يتجرَّؤوا على معاصي الله أو يقصروا في شيء ممَّا أمر الله به؛ خوفاً من العقاب ورجاءً للثواب.