اور (بادل کی) گرج اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتی ہے اور فرشتے بھی اس کے خوف سے۔ اور وہ کڑکنے والی بجلیاں بھیجتا ہے، پھر انھیں ڈال دیتا ہے جس پر چاہتا ہے، جب کہ وہ اللہ کے بارے میں جھگڑ رہے ہوتے ہیں اور وہ بہت سخت قوت والا ہے۔
En
اور رعد اور فرشتے سب اس کے خوف سے اس کی تسبیح و تحمید کرتے رہتے ہیں اور وہی بجلیاں بھیجتا ہے پھر جس پر چاہتا ہے گرا بھی دیتا ہے اور وہ خدا کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔ اور وہ بڑی قوت والا ہے
گرج اس کی تسبیح وتعریف کرتی ہے اور فرشتے بھی، اس کے خوف سے۔ وہی آسمان سے بجلیاں گراتا ہے اور جس پر چاہتا ہے اس پر ڈالتا ہے کفار اللہ کی بابت لڑ جھگڑ رہے ہیں اور اللہ سخت قوت والا ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَیُسَبِّحُالرَّعْدُبِحَمْدِهٖ ﴾”اور تسبیح بیان کرتا ہے گرجنے والا، اس کی خوبیوں کی“ (اَلرَّعْد) سے مراد بجلی کی کڑک کی آواز ہے جو بادلوں سے سنائی دیتی ہے اور بندوں کو ڈرا دیتی ہے۔ یہ کڑک اپنے رب کے سامنے جھکی ہوئی، اس کی تسبیح کے ساتھ اس کی حمد کرتی ہے۔ ﴿ وَالْمَلٰٓىِٕكَةُمِنْخِیْفَتِهٖ﴾”اور سب فرشتے اس کے ڈر سے“ یعنی اپنے رب کے سامنے فروتنی کے ساتھ اور اس کی سطوت سے ڈرتے ہوئے اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں ﴿وَیُرْسِلُالصَّوَاعِقَ﴾”اور بھیجتا ہے وہ کڑکتی بجلیاں “ اس سے مراد وہ آگ ہے، جو بادلوں سے نکلتی ہے ﴿ فَیُصِیْبُبِهَامَنْیَّشَآءُ ﴾”پھر ڈالتا ہے ان کو جس پر چاہے“ وہ یہ کڑکتی ہوئی بجلیاں اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اور جتنی چاہتا ہے اور جب ارادہ کرتا ہے گرا دیتا ہے ﴿ وَهُمْیُجَادِلُوْنَفِیاللّٰهِ١ۚوَهُوَشَدِیْدُالْمِحَالِ ﴾”اور وہ جھگڑتے ہیں اللہ کی بات میں اور اس کی گرفت سخت ہے“ وہ بہت زیادہ قوت و اختیار کا مالک ہے وہ جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے کوئی اس کے سامنے دم مار سکتا ہے نہ بھاگ کر بچ سکتا ہے۔
جب اللہ تعالیٰ اکیلا ہی، بندوں کے لیے بادل اور بارش لاتا ہے جس کے اندر ان کے رزق کا مادہ ہے، وہی ہے جو تمام امور کی تدبیر کرتا ہے، بڑی سے بڑی مخلوق اس کے خوف سے نہایت عاجزی کے ساتھ اس کے سامنے سرافگندہ ہے، بندے اس کے خوف سے لرزاں ہیں اور وہ بہت بڑی قوت کا مالک ہے… تب وہی عبادت کا مستحق ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ويسبِّح الرعدُ بحمده}: وهو الصوت الذي يُسمع من السحاب المزعج للعباد؛ فهو خاضعٌ لربِّه، مسبِّح بحمده، {و} تسبِّح {الملائكةُ من خِيفتِهِ}؛ أي: خُشَّعاً لربهم خائفين من سطوتِهِ، {ويرسل الصواعقَ}: وهي هذه النار التي تخرج من السحاب. {فيصيبُ بها مَن يشاءُ}: من عباده بحسب ما شاءه وأراده. {وهو شديدُ المحال}؛ أي: شديد الحَوْل والقوَّة؛ فلا يريد شيئاً إلاَّ فعله، ولا يتعاصى عليه شيءٌ، ولا يفوتُه هاربٌ. فإذا كان هو وحده الذي يسوق للعباد الأمطار والسحب التي فيها مادة أرزاقهم، وهو الذي يدبِّر الأمور وتخضع له المخلوقاتُ العظام التي يُخاف منها وتزعِجُ العباد، وهو شديد القوة؛ فهو الذي يستحقُّ أن يُعْبَدَ وحده لا شريك له، ولهذا قال:
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔