تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الرعد (13) — آیت 1

الٓـمّٓرٰ ۟ تِلۡکَ اٰیٰتُ الۡکِتٰبِ ؕ وَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ الۡحَقُّ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱﴾
المر۔ یہ کامل کتاب کی آیات ہیں اور جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے وہ حق ہے اور لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔ En
الٓمرا۔ (اے محمد) یہ کتاب (الہیٰ) کی آیتیں ہیں۔ اور جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے حق ہے لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے
En
ا ل م رٰ۔ یہ قرآن کی آیتیں ہیں، اور جو کچھ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے اتارا جاتا ہے، سب حق ہے لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں ﻻتے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ قرآن، کتاب اللہ کی آیات ہیں جو دین کے اصول و فروع میں ہر اس چیز کی طرف راہنمائی کرتی ہیں جس کے بندے محتاج ہیں اور یہ قرآن جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر آپ کے رب کی طرف سے اتارا گیا وہ واضح حق ہے کیونکہ اس کی خبریں صدق پر مبنی اور اس کے اوامر و نواہی سراسر عدل ہیں اور قطعی دلائل و براہین ان کی تائید کرتے ہیں۔ جو کوئی اس کے علم کی طرف متوجہ ہوتا ہے وہی حقیقی اہل علم میں شمار ہوتا ہے اور اس کا علم اس کے لیے عمل کا موجب بنتا ہے۔ ﴿ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَؔ لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔ یعنی اکثر لوگ یا تو اپنی جہالت، اس سے روگردانی اور اس کی طرف عدم توجہ کی بناء پر یا محض عناد اور ظلم کی و جہ سے، اس قرآن پر ایمان نہیں رکھتے۔ بنا بریں اکثر لوگ اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے، اس کی و جہ اس سبب کا معدوم ہونا ہے جو فائدہ اٹھانے کا موجب ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى أنَّ هذا القرآن هو آيات الكتاب الدالَّة على كلِّ ما يحتاج إليه العباد من أصول الدين وفروعه، وأن الذي أُنزلَ إلى الرسول من ربِّه هو الحقُّ المُبين؛ لأنَّ أخباره صدق وأوامره ونواهيه عدلٌ مؤيَّدة بالأدلَّة والبراهين القاطعة؛ فمن أقبل عليه وعلى علمه؛ كان من أهل العلم بالحقِّ الذي يوجب لهم علمهم العمل بما أحب الله. {ولكنَّ أكثر الناس [لا يؤمنون]}: بهذا القرآن: إمّا جهلاً وإعراضاً عنه وعدم اهتمام به، وإما عناداً وظلماً؛ فلذلك أكثر الناس غير منتفعين به؛ لعدم السبب الموجب للانتفاع.