تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَلَمَّافَصَلَتِالْعِیْرُ ﴾”اور جب قافلہ جدا ہوا“ یعنی مصر سے فلسطین کی طرف روانہ ہوا تو یعقوب علیہ السلام نے قمیص کی خوشبو سونگھ لی۔ کہنے لگے: ﴿ اِنِّیْلَاَجِدُرِیْحَیُوْسُفَلَوْلَاۤاَنْتُفَنِّدُوْنِ﴾”میں یوسف کی خوشبو پاتا ہوں، اگر تم میرا تمسخر نہ اڑاؤ“ اور یہ نہ سمجھو کہ بات مجھ سے غیر شعوری طور پر صادر ہوئی ہے کیونکہ یعقوب علیہ السلام نے اس حال میں ان کی طرف سے تعجب کا مظاہرہ ہی دیکھا جو اس قول کا موجب بنا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ولما فصلت العير}: عن أرض مصر مقبلةً إلى أرض فلسطين؛ شمَّ يعقوبُ ريح القميص، فقال: {إنِّي لأجِدُ ريح يوسفَ لولا أن تُفَنِّدونِ}؛ أي: تسخرون منِّي، وتزعُمون أنَّ هذا الكلام صدر منِّي من غير شعور؛ لأنَّه رأى منهم من التعجُّب من حاله ما أوجب له هذا القول.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔