تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يوسف (12) — آیت 94

وَ لَمَّا فَصَلَتِ الۡعِیۡرُ قَالَ اَبُوۡہُمۡ اِنِّیۡ لَاَجِدُ رِیۡحَ یُوۡسُفَ لَوۡ لَاۤ اَنۡ تُفَنِّدُوۡنِ ﴿۹۴﴾
اور جب قافلہ جدا ہوا، ان کے باپ نے کہا بے شک میں تو یوسف کی خوشبو پا رہا ہوں، اگر یہ نہ ہوکہ تم مجھے بہکا ہوا کہو گے۔ En
اور جب قافلہ (مصر سے) روانہ ہوا تو ان کے والد کہنے لگے کہ اگر مجھ کو یہ نہ کہو کہ (بوڑھا) بہک گیا ہے تو مجھے تو یوسف کی بو آ رہی ہے
En
جب یہ قافلہ جدا ہوا تو ان کے والد نے کہا کہ مجھے تو یوسف کی خوشبو آرہی ہے اگر تم مجھے سٹھیایا ہوا قرار نہ دو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِیْرُ اور جب قافلہ جدا ہوا یعنی مصر سے فلسطین کی طرف روانہ ہوا تو یعقوب علیہ السلام نے قمیص کی خوشبو سونگھ لی۔ کہنے لگے: ﴿ اِنِّیْ لَاَجِدُ رِیْحَ یُوْسُفَ لَوْلَاۤ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ میں یوسف کی خوشبو پاتا ہوں، اگر تم میرا تمسخر نہ اڑاؤ اور یہ نہ سمجھو کہ بات مجھ سے غیر شعوری طور پر صادر ہوئی ہے کیونکہ یعقوب علیہ السلام نے اس حال میں ان کی طرف سے تعجب کا مظاہرہ ہی دیکھا جو اس قول کا موجب بنا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ولما فصلت العير}: عن أرض مصر مقبلةً إلى أرض فلسطين؛ شمَّ يعقوبُ ريح القميص، فقال: {إنِّي لأجِدُ ريح يوسفَ لولا أن تُفَنِّدونِ}؛ أي: تسخرون منِّي، وتزعُمون أنَّ هذا الكلام صدر منِّي من غير شعور؛ لأنَّه رأى منهم من التعجُّب من حاله ما أوجب له هذا القول.