اور وہ ان سے واپس پھرا اور اس نے کہا ہائے میرا غم یوسف پر! اور اس کی آنکھیں غمسے سفید ہو گئیں، پس وہ غم سے بھرا ہوا تھا۔
En
پھر ان کے پاس سے چلے گئے اور کہنے لگے ہائے افسوس یوسف (ہائے افسوس) اور رنج والم میں (اس قدر روئے کہ) ان کی آنکھیں سفید ہوگئیں اور ان کا دل غم سے بھر رہا تھا
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یعنی جب یعقوب علیہ السلام کے بیٹوں نے انھیں یہ خبر سنائی تو انھوں نے اپنے بیٹوں سے منہ پھیر لیا، ان پر غم و اندوہ کا پہاڑ ٹوٹ پڑا، دل میں چھپے ہوئے غم اور کرب کی وجہ سے رو رو کر ان کی آنکھیں سفید ہوگئیں۔ ﴿ فَهُوَكَظِیْمٌ ﴾”سو وہ اپنے آپ کو گھونٹ رہا تھا“ یعنی ان کا دل حزن و غم سے لبریز تھا۔ ﴿ وَقَالَیٰۤاَسَفٰىعَلٰىیُوْسُفَ ﴾”اور کہا، اے افسوس یوسف پر“ یعنی پرانا حزن و غم اور نہ ختم ہونے والا اشتیاق جو حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے دل میں چھپا رکھا تھا، ظاہر ہوگیا اور اس نئی اور پہلی مصیبت کی نسبت قدرے ہلکی مصیبت نے پہلی مصیبت کی یاد تازہ کر دی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: وتولَّى يعقوبُ عليه الصلاة والسلام عن أولاده بعدما أخبروه هذا الخبر، واشتدَّ به الأسف والأسى، وابيضَّتْ عيناه من الحزن الذي في قلبه والكمد الذي أوجب له كثرةَ البُكاء حيث ابيضَّت عيناه من ذلك؛ {فهو كظيمٌ}؛ أي: ممتلئ القلب من الحزن الشديد، {وقال يا أسفى على يوسف}؛ أي: ظهر منه ما كَمَنَ من الهمِّ القديم والشوق المقيم، وذكَّرَتْه هذه المصيبة الخفيفة بالنسبة للأولى، المصيبةَ الأولى.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔